برطانیہ میں مسلمان مخالف جرائم کا الگ اندراج

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, راحیلہ بانو
- عہدہ, ایشین نیٹ ورک
برطانیہ میں آئندہ ماہ سے مسلمان مخالف جرائم کو جرائم کے اعداد و شمار میں علیحدہ درجے پر رکھا جائے گا۔ اس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ کتنے مسلمانوں کو ان کے مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سلسلے میں پہلی مرتبہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد جنھیں نشانہ بنایا گیا ہو کا بھی حساب رکھا جائے گا۔
اس فیصلے کو ان مسلمان گروہوں کی حمایت حاصل ہے جنھیں ایسا لگتا ہے کہ اس قسم کے واقعات کے بارے میں کم ہی معلومات منظر عام پر آتی ہیں۔
آپ ایک ایسی خاتون کا ہی کیس لے لیں جو چند ماہ قبل ایک کیفے میں داخل ہوئیں۔ ان کے کالج کے دوستوں کے ساتھ یہ ایک اچھا دوپہر کا کھانا ہو سکتا تھا لیکن بلیک برن سے تعلق رکھنے والی نوجوان مسلم لڑکی کے لیے یہ ایک خوفناک خواب ثابت ہوا۔
ان کا کہنا ہے کہ قریب ہی بیٹھیں ایک خاتون نے ان کے لیے برے الفاظ استعمال کیے۔ اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے والی اس خاتون کا کہنا ہے کہ ایسا صرف اس لیے ہوا کیوں کہ انھوں نے سکارف پہن رکھا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ ’انھوں نے اونچی آواز میں برے تارکین وطن کہا، انھوں نے مجھے اور میرے دوستوں کو برے تارکین وطن کہا اور وہ بری زبان استعمال کر رہے تھے۔ یہ بہت خوفناک تھا۔‘
اب وہ اکیلے باہر جانے سے ڈرتی ہیں۔ ان کی والدہ نے یہ تمام واقعہ پولیس کو بتایا تھا تاہم بعد میں جب پولیس افسر ان کے گھر آئے اور انھوں نے کہا کہ ان کی بیٹی کو مسلمان ہونے کی وجہ سے نشانہ نہیں بنایا گیا تو وہ حیران رہ گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سب سے حیران کن بات تو یہ ہے کہ پولیس تو اس واقعے کو اسلامو فوبک حملے کے زمرے میں ریکارڈ ہی نہیں کرتی، انھیں تو یہ معلوم ہی نہیں کہ یہ موجود ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ میں ایک سیمینار میں تھی جہاں اس بارے میں بات ہوئی لیکن پولیس افسر نے کہا کہ معاف کیجیے گا میں نے اس لفظ کے بارے میں نہیں سنا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ حیران کن ہے کیونکہ لنکاشائر پولیس تو کئی سالوں سے مسلمان مخالف جرائم کو رپورٹ کر رہی ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو ایک بیان میں کہا کہ ’اس واقعے کو ہمارے کمیونیکیشن روم نے فوراً ہی اسلاموفوبیا کے زمرے میں درج کر لیا تھا اور متاثرہ خاتون اس کا شکار ہوئی ہیں۔‘
’ہم اسلاموفوبک ہیٹ کرائم کو مذہب کی وجہ سے شکار ہونے کے طور پر درج کرتے ہیں۔‘
یکم اپریل سے انگلینڈ اور ویلز کی تمام 43 پولیس فورسز مسلمان مخالف نفرت انگیز جرائم کو علیحدہ سے درج کریں گی۔
امید کی جا رہی ہے کہ اس سے بہتر طریقے سے درجہ بندی ہو سکے گی کہ ایسے جرائم کہاں اور کتنی تعداد میں ہوئے ہیں۔
مذہب کی بنیاد پر انگلینڈ اور ویلز میں 2013 اور 2014 کے درمیان 2000 سے زائد جرائم ہوئے ہیں۔ یہ تعداد گذشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً نصف ہے اور ان میں سے تقریباً نصف کے قریب مسلمانوں کے خلاف ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
نیشنل پولیس چیف کونسل کے ’ہیٹ کرائم‘ کے ترجمان پال گیاناسی کا کہنا ہے کہ ’بہتر معلومات سے اس مسئلہ کی بنیاد تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔‘
ایک تنظیم ’ٹیل ماما‘ جو کہ مسلمانوں کے خلاف ہونے والے جرائم کو دیکھتی ہے حکومت کے ساتھ مل کر تبدیلی لانے کے لیے کام کر رہی ہے۔
ٹیل ماما کے فیاض مغل کا کہنا ہے کہ ’یہ بہت ضروری ہے کہ ہر واقعے کو رپورٹ کیا جائے اور اس کا ریکارڈ رکھا جائے۔‘
مسلمانوں کے علاوہ سکھوں اور ہندؤوں کے خلاف ہونے والے حملوں کا ریکارڈ رکھنا بھی اسی تبدیلی کا حصہ ہے۔
سکھ برادری کا کہنا ہے کہ نائن الیون کے حملے کے بعد سے انھیں بھی لوگوں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگ ان کی پگڑی دیکھ کر انھیں غلطی سے مسلمان سمجھ لیتے تھے۔
بی بی سی کی ملاقات پرتپال سنگھ مکن سے ہوئی جو کہ انگلینڈ میں سکھ گوردوارے کے بانیوں میں سے ہیں نے بتایا کہ ’ہم بھی اپنی برادری کو اس درجہ بندی میں شامل کیے جانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔‘
’سکھوں کے خلاف ہونے والے جرائم کی اطلاعات بھی ہمارے پاس ہیں جنھیں اسلام مخالف یا دیگر مذاہب کے خلاف ہونے والے جرائم کے زمرے میں ڈالا جاتا ہے۔ لہذا یہ بہت بہت ضروری ہے کہ تمام مذاہب کو برابری دی جائے۔‘







