برسلز حملوں میں ملوث مشتبہ شخص کی نئی ویڈیو جاری

،تصویر کا ذریعہBelgian Police
بیلجیئم میں استغاثہ نے دارالحکومت برسلز میں دہشت گرد حملوں میں ملوث ایک مشتبہ حملہ آور کی نئی ویڈیو جاری ہے۔
برسلز کے ایئر پورٹ پر دھماکوں سے پہلے یہ مشتبہ شخص خودکش بمباروں کے ساتھ دکھائی دیا تھا اور دھماکے کے بعد وہاں سے نکل گیا تھا۔
استغاثہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اس کو دیکھنے والے معلومات دینے کے لیے سامنے آئیں۔
حکام کے مطابق سی سی ٹی وی کی مدد سے مشتبہ شخص کو مقامی کے مطابق 9:50 تک دیکھا جا سکتا ہے اور اس نے ہلکے رنگ کی جیکٹ اور سر پر کالے رنگ ٹوپی پہن رکھی ہے۔
حکام کے مطابق یہ شخص برسلز کے مرکزی علاقے میں یورپی یونین دفاتر کے قریب دیکھا گیا اور یہاں سے بم حملے میں نشانہ بنایا جانے والا میٹرو سٹیشن مائل بیک زیادہ دور نہیں تھا۔
22 مارچ کو خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کے برسلز کے ایئر پورٹ اور میٹرو سٹیشن پر حملوں میں 32 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دھماکوں کے بعد جاری کی جانے والی پہلی ویڈیو میں یہ مشتبہ شخص خودکش حملہ آوروں کے ساتھ سامان کی ٹرالیز گھسیٹ رہا تھا۔

،تصویر کا ذریعہBelgian Police
اب اس شخص کی جاری کی جانے والی نئی ویڈیو میں یہ دھماکے کے بعد ایئر پورٹ سے باہر نکلنے والے مسافروں کے ساتھ کچھ دیر کے لیے بھاگتا ہوا دیکھائی دیتا ہے اور اس کے بعد پیدل 10 کلومیٹر کا سفر ڈھائی گھنٹوں میں طے کرتا ہے۔
اس کو میٹرو سٹیشن پر دھماکے کے بعد تقریباً 40 کے بعد آخری بار سی سی ٹی وی میں دیکھا گیا۔
بیلجیئم کے وفاقی استغاثہ نے کہا ہے کہ جنھوں نے ممکنہ طور پر مشتبہ شخص کی ویڈیو بنائی ہو یا ان کے پاس مفید معلومات ہوں وہ بیلجیئم میں(0800 30 300 ) پر فن کر سکتے ہیں اور بیلجیئم سے باہر سے (00 32 25544488) پر فون کر کے معلومات فراہم کی جا سکتی ہیں۔
ایک دن پہلے جمعرات کو حکام نے بتایا تھا کہ برسلز بم حملوں میں ملوث ایک حملہ آور نے یورپی پارلیمان میں بھی ملازمت کی تھی۔
حکام نے حملہ آور کی شناخت ظاہر نہیں کی تھی تاہم بتایا کہ اس نے سال 2009 اور 2010 میں موسم گرما میں ایک ماہ تک ملازمت کی اور وہ صفائی کرنے والے عملے میں شامل تھے۔







