جنوبی کوریا کے ایوانِ صدر پر حملے کی جنگی مشقیں

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس نے بھاری اسلحے کی مشق کی ہے جس کا مقصد جنوبی کوریا کے ایوانِ صدر پر حملے کا نمونہ پیش کرنا تھا۔
شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے سی این اے کا کہنا ہے کہ ان تمام مشقوں کی نگرانی شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ال خود کر رہے تھے، جنھوں نے فوج کو بلا کر کہا تھا کہ وہ کسی کی پروا کیے بغیر جنوبی کوریا کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔
یہ بیان پیانگ یانگ کی جانب سے غصے کے اظہار کا ایک نیا طریقہ ہے۔
ادھر جنوبی کوریا کی صدر پارک گون ہائے نے بھی اپنی فوج کو تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ انھوں نے جمعرات کو یہ بیان بھی دیا ہے کہ ’ایسی غیر ذمہ دارانہ اشتعال انگیزی اختیار کر کے شمالی کوریا کی حکومت خود ہی اپنی تباہی کے راستے پر جا رہی ہے۔‘
اپنے جوہری اور دور مار میزائلوں کے تجربے کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی جانب سے سخت ترین پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد سے شمالی کوریا اس شدید ردعمل کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
پیانگ یانگ کو اس بات پر بھی شدید غصہ ہے کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں اس کی سرحد کے جنوب میں کی جا رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ
اپنے تلخ لہجے کے لیے مشہور کے سی این اے کی اس رپورٹ میں جنوبی کوریا کی صدارتی رہائش گاہ ’بلو ہاؤس‘ کو ’آگ اور خاک کے سمندر‘ میں تبدیل کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
حالیہ مشقوں کے بارے میں ایجنسی نے رپورٹ دی ہے کہ ’اسلحے کے گولے بجلی کی سی تیزی کے ساتھ ہوا میں اڑ رہے تھے اور شور مچاتے ہوئے بلو ہاؤس کی طرف جا رہے تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بات واضح نہیں ہے کہ مشقیں کس وقت کی گئیں لیکن ایجنسی کے مطابق ان کا مقصد صدر پارک کو ان کے ’خطرناک انجام‘ سے خبردار کرنا تھا۔
اس سے قبل 1968 میں بھی شمالی کوریا کے کمانڈوز بلو ہاؤس کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ اس وقت کے صدر پارک چنگ ہی کو قتل کرنے کی یہ کوشش تو کامیاب نہیں ہو سکی تھی لیکن اس کے بعد جنوبی کوریا کے سات اور شمالی کوریا کے 31 حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔







