’پوپ فرانسس دنیا میں سب سے زیادہ مقبول‘

،تصویر کا ذریعہAFP
ایک عوامی رائے شماری کے مطابق کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس دنیا کے باقی بین الاقوامی سیاسی لیڈروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ مقبول ہیں ۔ون گیلپ انٹرنیشنل کی یہ رائے اشارہ دیتی ہے کہ پوپ کے بارے میں رومن کيتھولِک اور یہودیوں کی رائے سب سے مثبت ہے۔
دنیا بھر میں نصف سے زیادہ پروٹسٹنٹ عیسائی اور لادین لوگوں میں سے اکثریت پوپ کی طرف مائل ہیں۔
تقریباً 64 ملکوں سے 1000 کے قریب افراد سے رائے لی گئی۔
بی بی سی کی مذہب کے موضوع پر رپورٹنگ کرنے والی نمائندہ کارولائن ویاٹ کا کہنا ہے کہ پوپ فرانسس کو پوپ بننے کے تین سال کے اندر اندر ہی بے حد مقبولیت ملی ہے اور انھوں نے ناصرف رومن کيتھولِک لوگوں کے دل اور دماغ کو جیت لیا ہے بلکہ دوسرے مذاہب اور لادین لوگوں پر بھی ان کا اثر بڑھا ہے ۔
پول میں حصہ لینے والوں سے پوچھا گیا کہ ’اس سے قطع نظر کہ اپ کا کیا مذہب ہے یہ بتایے کہ پوپ فرانسس کے حوالے سے آپ کی رائے میں وہ بہت پسندیدہ، تھوڑے سے پسندیدہ، ناپسندیدہ یا بالکل نہیں پسند ہیں؟
64 ملکوں میں کیے جانے والے پول میں پوپ رومن کيتھولِک میں 85 فیصد، یہودیوں میں 65 فیصد مقبول ہیں اور سب سے زیادہ فلپائن میں 93 فیصد لوگوں نے پوپ کو بہت پسندیدہ رہنما قرار دیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
پوپ فرانسس کی سب سے کم مقبولیت تیونس، ترکی اور الجَزائر میں رہی جبکہ آذربائیجان سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا کہنا تھا کہ انھیں پوپ فرانسس کہ بارے میں زیادہ علم نہیں ۔
ون گیلپ کا کہنا تھا کہ دنیا کے سیاسی لیڈروں میں پوپ کا مقبولیت کے اعتبار سے سب سے بہتر درجہ ملا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ کے صدر باراک اباما کے مقابلے میں انھیں 41 زیادہ نمبر ملے، جرمنی کی چانسلر انگیلا مرکل سے 13 نمبر زیادہ، بر طانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرن سے 10 نمبر زیادہ اور فرانس کے صدر فرانسوا اولاند سے چھے نمبر زیادہ ملے۔
ون گیلپ انٹرنیشنل کے صدر جین مارک لیجر کا کہنا تھا ’پوپ فرانسس ایک ایسے لیڈر ہیں جو اپنے مذہب سے بھی بلند ہیں۔ ہمارے اس پول سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ دنیا کے زیادہ تر لوگ پوپ کو بہت اچھی نظروں سے دیکھتے ہیں اور وہ بہت لوگوں کے لیے پسندیدہ شخصیت ہیں۔‘







