ڈونلڈ ٹرمپ کی ریلی میں ایک بار پھر کشیدگی

دوبارہ تقریر شروع کرنے پر ڈنولڈ ٹرمپ نے خبردار کر دینے پر ریلی کے شرکا کا شکریہ ادا کیا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشندوبارہ تقریر شروع کرنے پر ڈنولڈ ٹرمپ نے خبردار کر دینے پر ریلی کے شرکا کا شکریہ ادا کیا

ڈونلڈ ٹرمپ کی ریلی میں ایک بار پھر کشیدگی کے بعد ایک شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔

اوہائیو میں تقریر کے دوران سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے اچانک ڈونلڈ ٹرمپ کو اس وقت گھیرے میں لے لیا جب ایک شخص نے جنگلہ پھلانگ کر سٹیج کی طرف بھاگنے کی کوشش کی۔

دوبارہ تقریر شروع کرنے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کر دینے پر ریلی کے شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا: ’میں اس کے لیے تیار تھا، لیکن بہتر یہ ہے کہ پولیس والے یہ کام کریں۔‘

اس سے پہلے شکاگو میں منعقد کی جانے والی ریلی کشیدگی کے باعث منسوخ کر دی گئی تھی۔ آڈیٹوریم کے اندر ٹرمپ کے حامیوں اور جھنڈے لہرا کر نعرے لگانے والے مخالفین کے درمیان جھڑپوں کے کئی واقعات بھی پیش آئے۔ جمعے کی صبح 32 افراد کو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سینٹ لوئس میں منعقد کی جانے والی ریلی میں احتجاج کے بعد حراست میں لیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہ

ٹرمپ کے لیے مسلمانوں کے خلاف دینے جانے والے بیانات پر کافی ناراضی پائی جاتی ہے۔ انھوں نے پہلے امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی کی بات کہی اس کے بعد انھوں نے کہا کہ ’اسلام ہم سے نفرت کرتا ہے۔‘

اس واقعے کے بعد امریکی صدر اوباما نے صدارتی امیدواروں کی دوڑ میں شامل افراد نے کشیدگی کو ہوا نہ دینے کی نصیحت کی۔

ان کا کہنا تھا ’آپ کا مقصد ہمیں اپنے ساتھ ملانا ہونا چاہیے نہ کہ ایک دوسرے کے خلاف کرنا۔‘

انھوں نے سیاسی رہنماؤں سے تشدد کے حلاف آواز اٹھانے کو کہا۔ ان کا کہنا تھا ’اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کرتے ہیں تو وہ ہمارے حمایت کے مستحق نہیں ہیں۔‘

ناقدین کا خیال ہے کہ ٹرمپ خود کو غیر معمولی واقعات کا شکار ظاہر کرنے کے خواہش مند دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شکاگو میں مظاہرین نے انھیں تقریر نہ کرنے دے کر ان کے آزادیِ اظہار کے آئینی حق کے روکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برنی سینڈز سے ان کے حامیوں کی حرکتوں کے بارے میں سوال کیوں نہیں کیا جاتا۔

شکاگو میں بیشتر مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ ڈیمو کریٹک امیدوار کے حامی ہیں۔