شمالی کوریا: جوہری ہتھیار تیار رکھنے کی ہدایت

،تصویر کا ذریعہReuters
شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے رہنما کم جونگ ان نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے جوہری ہتھیاروں کو کسی بھی وقت استعمال کرنے کے لیے تیار رکھنا چاہیے۔
کوریئن سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق انھوں نے اپنے فوجی کمانڈروں سے کہا ہے کہ پہلے ہی حملہ کرنے کے لیے تیار رہنے کی غرض سے ملک کی افواج کی پوزیشن پر از سر نو غور و خوض کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا ’ہمیں ہمیشہ اپنے جوہری ہتھیار فائر کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا چاہیے۔‘
ایک فوجی مشق کے دوران بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دشمن شمالی کوریا کے وجود کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا ’ایک ایسے مشکل وقت جب امریکی دوسرے ممالک اور لوگوں کے خلاف جنگ چھیڑنے کی بات کہہ رہے ہیں اپنی خود مختاری اور جینے کے حق کے دفاع کے لیے اپنے پاس جوہری طاقت کو بڑھانا ہی ایک واحد راستہ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
شمالی کوریا کی طرف سے اس طرح کے بیانات کو ئی غیر معمولی بات نہیں ہے اور ماہرین کو اس بات پر شکوک و شبہات ہیں کہ شمالی کوریا کے پاس اس طرح کے جوہری ہتھیار ہیں جن کا وہ استمعال کر سکے۔ لیکن مبصرین کے مطابق وہ ایسے ہتھیاروں کے حصول کے لیے ضرور کوشاں ہے۔
ادھر امریکہ نے بھی کم جونگ ان کے بیانات پر اپنے رد عمل میں اسے عالمی اداروں کی پاسداری کرنے کی نصیحت کی۔
پینٹاگون کے ترجمان کمانڈر بل اربن نے کہا ’ہم شمالی کوریا سے ایسے اشتعال انگیز کاموں سے باز رہنے کو کہتے ہیں جس سے علاقے میں تناؤ میں مزید اضافہ نہ ہو اور اس کے بجائے اسے وہ کرنا چاہیے جو عالمی اداروں کی طرف کہا گیا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شمالی کوریا کے جانب سے اس طرح کا رد عمل اقوام متحدہ کی جانب اس پر عائد کی گئی پابندیوں کے سبب ہورہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
حال ہی میں شمالی کوریا نے جوہری تجربہ کیا تھا جس کے بعد اقوام متحدہ کی سکیورٹی کاؤنسل نے اتفاق رائے اس پر سخت نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔
جمعرات کو شمالی کوریا نے اسی کے رد عمل میں سمندر میں کچھ میزائل بھی داغے تھے۔ جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کا کہنا ہے اس نے چھ بار فائر کیا جس کے لیے اس نے یا تو راکیٹ یا پھر گائیڈید میزائل استعمال کیے تھے۔
شمالی کوریا نے گذشتہ جنوری میں جوہری تجربہ کیا تھا جس کے جواب میں اس پر نئی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے اتفاق رائے سے اس قرارداد کو منظور کر لیا ہے جس میں شمالی کوریا پر نئی جامع عالمی پابندیاں عائد کرنے کی تجاویز پیش کی گئی تھیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ نئی پابندیاں اس پر دو دہائیوں کے درمیان عائد کی گئی پابندیوں میں اب تک سب سے سخت ہیں۔







