اقوام متحدہ کے سابق اہلکار کے خلاف جنسی استحصال کا کیس

،تصویر کا ذریعہAFP
اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی کے پینل (آئی پی سی سی) کے سابق سربراہ راجندرا پچوری کے خلاف ایک بھارتی عدالت میں جنسی طور پر حراساں کرنے کا مقدمہ درج کروایا گیا ہے۔
موسمیاتی تھنک ٹینک ’دا اینرجی اینڈ ریسورسز انسٹیٹیوٹ‘ (ٹیری) میں کام کرنے والی ایک ملازمہ نے گذشتہ سال راجیندر پر انھیں جنسی طور پر حراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
گذشتہ ماہ ایک اور ملازمہ نے بھی راجیندرا کے خلاف انھیں جنسی طور پر حراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا جس کے بعد غم و غصے کی لہر پھیل گئی۔
راجیندرا پچوری نے اپنے خلاف لگے الزامات کی تردید کی ہے اور گذشتہ سال وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔
فروری میں تازہ ترین الزامات عائد ہونے کے بعد انھیں تھنک ٹینک ٹیری کی جانب سے غیر معینہ مدت کے لیے چھٹی لینے پر مجبور کیا گیا۔
بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق منگل کو دہلی میں میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ شوانی چوہان کی عدالت میں ان کے خلاف ایک ہزار 400 صفحات کے الزامات درج کروائے گئے۔
پریس ٹرسٹ آف انڈیا کا کہنا ہے کہ راجیندرا کے خلاف جنسی طور پر حراساں کرنا، کسی کا پیچھا کرنا اور دھمکیاں دینے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
یہ الزامات ان کے خلاف شکایت کرنے والے پہلی خاتون کی جانب سے عائد کیے گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مجسٹریٹ کا کہنا ہے کہ اس کیس کی سماعت 23 اپریل کو سنی جائے گی۔
سنہ 2007 میں راجیندرا پچوری نے آئی پی سی سی کی نمائندگی میں امن کا نوبل انعام حاصل کیا تھا۔
آئ پی سی سی کو موسمیاتی تبدیلی کے خطرات اور اسباب کی سائنسی تشخیص معلوم کرنے پر نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔







