زکا وائرس کی ’جنسی‘ منتقلی کے واقعات میں اضافہ

،تصویر کا ذریعہAP
امریکہ میں طبی حکام کا کہنا ہے کہ وہ زکا وائرس کے ایسے 14 معاملات کی تحقیقات کر رہے ہیں جن میں وائرس ممکنہ طور پر جنسی عمل کے نتیجے میں منتقل ہوا۔
حکام کے مطابق ایسے تمام معاملات میں مریض یا تو وائرس سے متاثرہ علاقوں کا سفر کرنے والے مرد ہیں یا پھر ان کا تعلق ایسے مردوں سے رہا ہے جو متاثرہ علاقوں میں گئے تھے۔
امریکہ میں زکا وائرس کے متاثرین میں پہلی بار حاملہ خواتین بھی سامنے آئی ہیں۔
طبی حکام کے مطابق ان معاملات کے سامنے آنے سے ثابت ہوا ہے کہ جنسی طور پر زکا وائرس کی منتقلی اس وائرس کے پھیلاؤ میں اندازے سے کہیں زیادہ کردار ادا کر رہی ہے۔
بظاہر اس مریض نے بھی وائرس سے متاثرہ ملک سے واپس آنے والے کسی فرد کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کیے تھے جس سے وائرس اس میں منتقل ہوگیا۔
تاحال امریکہ میں مچھروں کے ذریعے زکا وائرس کے منتقل ہونے کے شواہد نہیں ملے۔
خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے زکا وائرس کو عالمی سطح پر خطرہ قرار دیا جاچکا ہے اور اس حوالے سے ہنگامی اقدامات کیے جارہے ہیں۔
اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک برازیل میں اس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے سر والے بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ مچھروں کی وجہ سے پھیلنے والا یہ وائرس جنوبی امریکی خطے کے 20 ممالک میں اب تک پھیل چکا ہے تاہم برازیل اس وقت خطے میں اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔
برازیل نے زکا وائرس کا پہلا کیس جنوبی امریکہ میں مئی 2015 میں رپورٹ کیا تھا۔
اس وائرس سے متاثرہ بہت سے افراد میں کوئی علامات نہیں دیکھی گئیں اسی لیے اس کا ٹیسٹ کرنا مشکل ہے۔ تاہم ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ برازیل میں ایک اندازے کے مطابق پانچ سے 15 لاکھ افراد متاثر ہیں۔







