فجی میں سمندری طوفان سے ہلاکتوں کی تعداد 21 ہوگئی

فجی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنطوفان کے بعد اب صفائی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے

فجی میں سمندری طوفان ونسٹن سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 21 ہوگئی ہے۔

گذشتہ دنوں آنے والے طوفان کے بارے میں خیال ہے کہ یہ جنوبی نصف کرہ ارض پر آنے والا شدید ترین طوفان تھا جس میں 300 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار سے ہوائیں چلیں۔

طوفان کے بعد اب صفائی کا آپریشن شروع کیا گیا ہے تباہی کا مکمل تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

طوفان نے سینکڑوں گھر تباہ کر دیے تھے اور بجلی کے کھمبوں کو اکھاڑ ڈالا تھا۔

دارالحکومت سوا اس طوفان سے ہونے والی بڑی تباہی سے محفوظ رہا تاہم نیوزی لینڈ کی فوج کی جانب سے مہیا کی جانے والی علاقے کی فضائی ویڈیو میں دور افتادہ دیہات کو ملیا ملیٹ دیکھا جا سکتا ہے۔

طوفان کے ٹکرانے کے دو روز بعد ہونے والی تباہی کو مکمل تخمینہ لگایا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنطوفان کے ٹکرانے کے دو روز بعد ہونے والی تباہی کو مکمل تخمینہ لگایا جا رہا ہے

بہت سارے علاقوں تک رسائی ممکن نہیں ہے اور وہاں بجلی ابھی بھی منقطع ہے۔

فجی کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے نیشنل ڈیساسٹر مینجمنٹ آفس کے اہلکار جارج ڈریگاسو نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ملک کے نو لاکھ رہائیشوں میں سے 80 فیصد بجلی کی باقاعدہ سپلائی کے بغیر رہ رہے ہیں۔

امدادی اداروں کی جانب سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ اشیائے خورونوش اور صاف پانی کی دستیابی کے فقدان کے بارے میں بھی خدشات بڑھ رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے سنیچر کی رات نافذ کیے گئے کرفیو میں نرمی کر دی گئی اور ملک میں فضائی آمدورفت دوبارہ بحال کر دی گئی ہے۔

بہت سارے علاقوں تک رسائی ممکن نہیں ہے اور وہاں بجلی ابھی بھی منقطع ہے

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنبہت سارے علاقوں تک رسائی ممکن نہیں ہے اور وہاں بجلی ابھی بھی منقطع ہے

خیال رہے کہ کیٹیگری فائیو کا یہ طوفان، جو کہ سب سے بڑا سمجھا جاتا ہے، فجی کے اہم جزیرے ویٹی لیوو سے سنیچر کو مقامی وقت کے مطابق شام 6:30 ٹکرانے کے بعد مغرب کی طرف نکل گیا تھا۔ آخری وقت پر اس کی سمت بدلنے سے دارالحکومت ’سوا‘ کو وہ نقصان نہیں ہوا جو کہ ہو سکتا تھا۔

حکومت نے 750 پناہ کے سینٹر کھولے ہیں۔

فجی براڈکاسٹنگ کمپنی کے مطابق ملک کے دوسرے سب سے بڑے جزیرے وانوا لیوو کی ایک پناہ گاہ میں 1000 کے زیادہ افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔