’شام تمام محصور علاقوں تک امداد پہنچنے دے‘

اقوام متحدہ کے مطابق ان محصور علاقوں میں تقریباً پانچ لاکھ افراد موجود ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کے مطابق ان محصور علاقوں میں تقریباً پانچ لاکھ افراد موجود ہیں

اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی نے شامی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں ایسے تمام علاقوں تک امداد پہنچانے کے لیے رسائی دے جہاں شہریوں کو محاصرے کا سامنا ہے۔

شامی حکومت نے امدادی اداروں کو سات محصور علاقوں تک رسائی کی منظوری دی ہے اور سٹیفن ڈی میستورا نے کہا ہے کہ امدادی قافلے ان علاقوں کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کو ان تمام شامی باشندوں تک رسائی ہونی چاہیے جو امداد کے منتظر ہیں۔

منگل کو دمشق میں شامی حکام سے بات چیت کے بعد انھوں نے کہا کہ ’یہ شامی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شامی شہری تک رسائی دے اور اقوامِ متحدہ کو امداد لانے کی اجازت دے۔‘

سٹیفن ڈی مستورا نےیہ بھی کہا کہ امدادی قافلوں کی محصور علاقوں تک رسائی اس بات کا امتحان ہے کہ آیا شام میں متحارب فریقین مشکلات میں گھرے شہریوں کی مدد کے لیے پرعزم ہیں یا نہیں۔

’ہم کل(بدھ کو) ان کا امتحان لیں گے۔‘

گذشتہ ہفتے شام کے بحران پر جرمن شہر میونخ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد عالمی طاقتیں شام میں ’جنگی اقدامات اور کارروائیاں روکنے‘ اور امداد پہنچانے کے عمل میں تیزی لانے پر متفق ہوئی تھیں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان حق کا کہنا ہے کہ شامی حکومت کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد ’امدادی کاموں کے لیے قافلے جلد از جلد روانہ ہونے کے لیے تیار ہیں۔‘

اقوام متحدہ کے مطابق جن محصور علاقوں میں امداد پہنچانے کی اجازت ملی ہے وہاں تقریباً پانچ لاکھ افراد موجود ہیں
،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کے مطابق جن محصور علاقوں میں امداد پہنچانے کی اجازت ملی ہے وہاں تقریباً پانچ لاکھ افراد موجود ہیں

جن سات علاقوں میں امداد پہنچائی جائے گی ان میں دیر الزور، ال فواہ، کیفرایہ، مضایا، زبادانی، موادھمیا اور کفر بتانہ شامل ہیں۔

ان علاقوں کے بارے میں 17 رکنی انٹرنیشنل سپورٹ گروپ کا کہنا ہے کہ وہاں کے باشندوں کو امداد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

فرحان حق کا کہنا ہے کہ ’ان علاقوں کے لیے امدادی اداروں اور دیگر پارٹنرز کے کارکن آئندہ دنوں میں جلد از جلد روانہ ہو جائیں گے۔‘

اقوام متحدہ کے مطابق ان محصور علاقوں میں تقریباً پانچ لاکھ افراد موجود ہیں۔

شام میں جنگ بندی کا آغاز رواں ہفتے میں کسی وقت ہو سکتا ہے تاہم یہ جنگ بندی دولتِ اسلامیہ اور النصرہ فرنٹ جیسے شدت پسند گروہوں کے لیے نہیں ہوگی۔

صدر بشار الاسد کی افواج جنھیں روس کی فضائی حمایت حاصل ہے شمالی علاقوں میں پیش قدمی کر رہی ہیں اور اہم شہر حلب کے گرد گھیرا تنگ کر رہی ہیں۔