تائیوان: بچی کو ملبے سے نکال لیا گیا لیکن درجنوں لاپتہ

،تصویر کا ذریعہReuters
تائیوان میں زلزلے سے منہدم ہونے والی ایک عمارت کے ملبے کے نیچے سے 30 گھنٹے بعد چھ ماہ کی بچی کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔
اس سے پہلے اتوار کو ہی 20 سالہ لڑکے کو ملبے سے زندہ نکالا گیا تھا۔
زلزلے میں ہلاک ہونے والے 26 افراد میں سے 24 اسی عمارت میں موجود تھے۔
تائیوان کے شہر تائینان میں سنیچر کی علی الصبح آنے والے اس زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر 6.4 تھی۔
اب تک 170 افراد کو ملبے سے زندہ نکالا جا چکا ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 500 کے قریب ہے۔
منہدم ہونے والی 17 منزلہ عمارت ( گولڈن ڈریگن) کے ملبے تلے دبے دیگر 120 افراد کو بچانے کی امیدیں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہepa
بی بی سی کے نامہ نگار ونگفیلڈ ہیز کے مطابق امدادی کارروائیاں دوسری رات بھی جاری ہیں جبکہ عمارت میں پھنسے افراد بے چینی سے اپنے پیاروں کے بارے میں کسی خبر کے منتظر ہیں۔
چینگ نامی ایک خاتون کے مطابق ان کی بیٹی منہدم ہونے والی عمارت کی پانچویں منزل پر رہائش پذیر تھی اور وہ میری فون کالز کا جواب نہیں دے رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’میں اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں اور مضبوط رہنے کی کوشش کر رہی ہوں، اور میں اس وقت تک ایسا کروں گی جب تک اپنی بیٹی کو تلاش نہیں کر لیتی۔ میں جانتی ہوں کہ وہ اسے ڈھونڈ لیں گے لیکن میں بدتر صورتحال کے لیے بھی تیار ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
امدادی کارروائیوں میں سینکڑوں فوجی اہلکار شامل ہیں اور انھیں جدید آلات اور سونگھنے والے کتوں کی مدد حاصل ہے۔
اس کے علاوہ زلزلے کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے متاثرین کے لیے عارضی رہائشی گاہیں قائم کی گئی ہیں۔
دوسری جانب عمارت کے تعمیراتی معیار کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
نامہ نگار کے مطابق شہریوں کے غم و غصے میں اس وجہ سے بھی اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ منہدم ہونے والی عمارت کے کنکریٹ سے تیار کردہ پلرز میں سے ٹین کے کنستر اور پولیسٹرین (بے رنگ شفاف پلاسٹک) ملا ہے۔
تعمیراتی کمپنیاں عمارتوں کی تعمیر میں بچت کے لیے ایسے سستے طریقے استعمال کرتی ہیں۔







