تائیوان میں زلزلہ سے 14 ہلاک، ملبے میں دبے افراد کی تلاش جاری

زلزلے سے متعدد عمارتیں منہدم ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنزلزلے سے متعدد عمارتیں منہدم ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں

تائیوان کے جنوبی حصے میں شدید زلزلے سے تائینان شہر میں متعدد عمارتیں منہدم ہوگئی ہیں۔ زلزلے سے کم از کم 14 افراد ہلاک اور 500 زخمی ہو گئے ہیں۔

امدادی عملہ جنوبی تائیوان میں ایک 17 منزلہ رہائشی عمارت کے ملبے تلے پھنسے132 افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ 350 افراد کوملبے سے زندہ نکال لیا گیا ہے۔

تائیوان میں سنیچر کی علی الصبح آنے والے اس زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر 6.4 تھی۔

ہلاک ہونے والوں میں ایک شیر خوار بچی بھی شامل ہے جبکہ زخمی ہونے والے 500 افراد میں سے 92 اب بھی ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔

اطلاعات کے مطابق زلزلے سے متعدد عمارتیں منہدم ہوئی ہیں جن میں ایک 17 منزلہ رہائشی عمارت بھی شامل ہے۔

تقریباً 20 لاکھ کی آبادی والے شہر تائینان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شہر کی انتظامیہ نے ہنگامی ٹیم قائم کی ہے۔

صدر ما ینگ جیو نے لوگوں کو بچانے کے لیے کوئی کسر نہ اٹھا رکھنے کی بات کہی ہے اور کہا ہے کہ جن کے گھر تباہ ہو گئے ہیں ان کے لیے عارضی پناہ گاہیں قائم کی جائیں گی۔

امدادی کارکنوں میں آٹھ سو فوجی جوان بھی شامل ہیں جو جدید آلات کی مدد سے ملبے تلے دبے افراد کو تلاش کر رہے ہیں۔

تائیوان کے سرکاری خبررساں ادارے کا کہنا ہے کہ ایک رہائشی عمارت میں کم از کم 23 افراد زخمی ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنتائیوان کے سرکاری خبررساں ادارے کا کہنا ہے کہ ایک رہائشی عمارت میں کم از کم 23 افراد زخمی ہوئے ہیں

وزیرِ داخلہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دیکھا جائے گا کہ عمارت کی تعمیر میں متعقلہ قوانین کا خیال رکھا گیا تھا یا نہیں۔

اس زلزلے کے بعد سے اب تک کم از کم پانچ بار آفٹرشاکس آ چکے ہیں۔

امریکی ارضیارتی مرکز کا کہنا ہے زلزلے کا مرکز زیادہ گہرائی میں نہیں تھا جس کے باعث اس کے اثرات زیادہ ہوسکتے ہیں۔

تائیوان کے اخبار لبرٹی ٹائمز کے مطابق منہدم ہونے والی ایک عمارت رہائشی کمپلیکس تھی اور اس میں لوگ سو رہے تھے۔

تائیوان کے صدر ما ینگ جیئو زلزلے سے متاثرہ تائنان روانہ ہوگئے ہیں۔

تائیوان کے سرکاری خبررساں ادارے کا کہنا ہے کہ ایک رہائشی عمارت میں کم از کم 23 افراد زخمی ہوئے ہیں جہاں قیاس ہے کہ 200 کے قریب افراد قیام پذیر تھے۔

ٹی وی پر دکھائی جانے والی تائنان کی تصاویر میں امدادی کارکنوں کو منہدم ہونے والی عمارتوں میں پھنسے ہوئے افراد کو نکالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

تانیان کی ایک رہائشی ایما نے بی بی سی ورلڈ نیوز کو بتایا کہ لوگوں کو مزید جھٹکوں کا خوف ہے۔

تانیان کی ایک رہائشی ایما نے بی بی سی ورلڈ نیوز کو بتایا کہ لوگوں کو مزید جھٹکوں کا خوف ہے

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنتانیان کی ایک رہائشی ایما نے بی بی سی ورلڈ نیوز کو بتایا کہ لوگوں کو مزید جھٹکوں کا خوف ہے

ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے زلزلہ محسوس ہوا، یہ بہت خوفناک تھا۔‘

بہت سے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت بھی اپنے گھروں سے لکڑی کی سیڑھیوں، رسیوں کی مدد سے باہر نکلے اور کچھ نے ہتھوڑی سے دروازے توڑ کر جان بچائی۔

ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ریسکیو آپریشن میں 800 سے زائد اہلکاروں پر مشتمل عملہ، 16 ہیلی کاپٹر اور 23 سراغرساں کتے شامل ہیں۔

کئی علاقوں میں بجلی منقطع ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

زلزلے کے جھٹکے 300 کلومیٹر فاصلے پر واقع دارالحکومت تائی پی میں بھی محسوس کیے گئے اور اس وقت سے اب تک کئی آفٹرشاکس بھی آچکے ہیں۔

خیال رہے کہ تائیوان ایسے خطے میں واقع ہے جہاں دو ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ٹکراتی ہیں اور وہاں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں۔

تائیوان میں سنہ 1999 میں7.6 کی شدت کے زلزلے سے 2300 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔