’حکومت نیویارک میں ہمارے خلاف مقدمہ کیوں نہیں کرتی؟‘

،تصویر کا ذریعہ
ایک چینی مصنف کا کہنا ہے کہ وہ چینی صدر شی جنگ پِنگ کے بارے میں لکھی جانے والی اس ’اشتعال انگیز‘ کتاب کے شریک مصنف ہیں جومبینہ طور پر ہانگ کانگ کے پانچ ناشروں کی گمشدگی کی وجہ بنی ہے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے امریکہ میں مقیم مصنف، جو اپنا نام شی نوو بتاتے ہیں، کا کہنا تھا کہ ان افراد پر ساری ذمہ داری نہیں ڈالنی چاہیے تھی۔
انھوں نے کہا کہ کتاب کی آن لائن اشاعت انھوں نے چینی حکومت کو چیلنج کرنے کے لیے کی ہے۔ ’حکومت نیو یارک آ کر کے ہمارے خلاف مقدمہ کیوں نہیں دائر کرتی؟‘
حالیہ مہینوں میں لاپتہ ہونے والی یہ افراد اس وقت چین کی تحویل میں ہیں۔
چند تجزیہ کاروں کے خیال کے مطابق ’شی جنِ پنِگ اور ان کی محبوبائیں‘ کے عنوان سے اشاعت کے لیے تیار کتاب چینی حکومت کے اشتعال کا باعث بنی تھی اور ان افراد کی گمشدگی اور حراست کا سبب بھی بنی۔
لاپتہ افراد میں سے دو افراد کو چین ان کی مرضی کے خلاف ماورائے عدالت لے جائے جانے کے الزامات کے بعد عالمی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ چینی حکام کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ افراد رضاکارانہ طور پر چین آئے ہیں۔
شی نوو کا کہنا ہے کہ کتاب ’شی جنِ پنِگ اور ان کی محبوبائیں‘ سنہ 2014 میں مکمل ہوگئی تھی تاہم ناشر جی منہائی نے چینی حکومت کے ایجنٹ سے ملاقات کے بعد کتاب نہ چھاپنے کا فیصلہ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
اس کتاب کے ایک اور مصنف بھی ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کتاب کا زیادہ تر حصہ انھی نے لکھا ہے تاہم حفاظتی وجوہات کی بنا پر ان کی شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شی نوو کا کہنا ہے کہ ’میں نے اس کتاب کی اشاعت کا فیصلہ کیا ہے۔ میں چینی حکام، شی جِن پِنگ، اور چینی صدر کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ غلط ہیں، مکمل طور پر غلط ہیں۔ بہتر ہوگا کہ آپ ان پانچ افراد کو رہا کر دیں۔ انھیں واپس ان کے گھروں کو جانے دیں۔‘
ایک سینیئر صحافی اورمصنف چِنگ چیونگ کہتے ہیں کہ ان افراد کی گمشدگیوں کی وجہ ’کمیونسٹ جماعت کی جانب سے ہانگ کانگ میں ’پابندی کا شکار کتابوں‘ کے بازار کو ختم کرنا ہے۔
چِنگ کہتے ہیں کہ ہانگ کانگ کا کتابوں کا بازار اشرافیہ کی سیاست کا حصہ بن چکا ہے۔ اور اگر واقعی ایسا ہی ہے تو یہ ایک خطرناک کھیل بن گیا ہے۔ جی منہائی سویڈن کے شہری ہیں اور لی برطانوی پاسپورٹ کے حامل ہیں، انھوں نے اس کھیل کو ’داخلی‘ معاملے سے بین الاقوامی معاملے میں تبدیل کر دیا ہے۔







