فرانس میں دولت اسلامیہ کی شکست تک ایمرجنسی کا نفاذ

وزیراعظم مینیول والس کا کہنا ہے کہ فرانس نام نہاد دولت اسلامیہ کی مکمل شکست ہونےتک ہنگامی حالات کے نفاذ کو جاری رکھنا چاہے گا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنوزیراعظم مینیول والس کا کہنا ہے کہ فرانس نام نہاد دولت اسلامیہ کی مکمل شکست ہونےتک ہنگامی حالات کے نفاذ کو جاری رکھنا چاہے گا

فرانس کے وزیراعظم مینوئل والس کا کہنا ہے کہ ملک میں اس وقت تک ہنگامی حالت برقرار رہے گی جب تک شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو مکمل شکست نہیں ہو جاتی۔

گذشتہ برس 13 نومبر کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں حملوں کے بعد ملک میں ہنگامی حالت کا نفاذ ہوا تھا اور بعد میں اس میں مزید تین ماہ کی توسیع کی گئی تھی۔

ایمرجنسی نافذ ہونے سے پولیس کو شبہے کی بنیاد پر چھاپہ مارنے یا کسی کوگھر میں نظر بند کرنے جیسے کچھ اضافی اختیارات حاصل ہو جاتے ہیں۔

سفارتی امور کے لیے بی بی سی کی خصوصی نامہ نگار لیز ڈیوسیٹ کے ساتھ سوئس شہر ڈیووس میں بات کرتے ہوئے مینوئل والس نے کہا کہ فرانس ’حالت جنگ‘ میں ہے جس کا مطلب ’فرانس کی عوام کے تحفظ کے لیے ان تمام اقدامات کا استعمال کرنا ہے جو ہماری جمہوریت میں قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے مناسب ہیں۔‘

جب ان سے یہ سوال پوچھا گيا کہ ان کی نظر میں ایمرجنسی کب تک نافذ رہ سکتی ہے تو ان کا کہنا تھا: ’جس وقت تک ضروری ہو۔ ہم ہمیشہ تو ہنگامی حالات میں رہ نہیں سکتے۔‘

مینیول ولاس کے مطابق افریقہ، مشرقی وسطی، اور ایشیا سے ہمیں داعش کو پوری طرح ختم کرنا ہوگا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمینیول ولاس کے مطابق افریقہ، مشرقی وسطی، اور ایشیا سے ہمیں داعش کو پوری طرح ختم کرنا ہوگا

انھوں نے مزید کہا: ’جب تک خطرات ہیں اس وقت تک ہمیں تمام ذرائع کا استعمال کرنا چاہیے۔۔۔ اسے اس وقت تک رہنا چاہیے جب تک ہم دولتِ اسلامیہ سے چھٹکارا حاصل نہیں کر لیتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’افریقہ، مشرقی وسطی، اور ایشیا سے ہمیں دولتِ اسلامیہ کو پوری طرح ختم کرنا ہو گا۔ دہشت گردی کے خلاف یہ ہماری ایک مکمل اور بین الاقوامی جنگ ہے۔ جو جنگ ہم لڑ رہے ہیں وہ بھی مکمل، سخت اور بین الاقوامی ہونی چاہیے۔‘

انٹرویو کے دوران مینوئل والس نے پناہ گزینوں کے بحران کے متعلق بھی بات کی اور کہا یورپ کا یہ بحران اب خود یورپی یونین کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

گذشتہ برس یورپ میں دس لاکھ سے زیادہ پناہ گزين آئے اور اس مسئلے پر رکن ممالک میں شدید احتلافات پائے جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA

فرانسیسی وزیرِ اعظم نے کہا کہ شام اور عراق میں جاری بھیانک لڑائی سے بچنے کے لیے بےگھر ہونے والے تمام لوگوں کو یورپ پناہ نہیں دے سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے تو یورپ کا پورا معاشرہ ہی عدم استحکام کا شکار ہو جائےگا۔

انھوں نے کہا کہ یورپ کو فوری طور پر اپنی بیرونی سرحدوں پر کارروائی کی ضرورت ہے۔

انہونے نے کہا: ’اگر یورپ خود اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لائق نہیں ہے تو پھر خود نظریۂ یورپ ہی پر سوال اٹھنے لگیں گے۔‘