شام اور دولتِ اسلامیہ کے لیے کیمرون کی حکمتِ عملی

وزیراعظم کی یہ حکمت عملی ہوگی کہ وہ ایوان نمائندگان کوشام پر حملے کے لیے رضامند کر لیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنوزیراعظم کی یہ حکمت عملی ہوگی کہ وہ ایوان نمائندگان کوشام پر حملے کے لیے رضامند کر لیں

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اس ہفتے ارکین پارلیمان کے سامنے دولت اسلامیہ کے خلاف اور شام کے متعلق اپنی حکمت عملی پیش کریں گے۔

مختلف پارٹیوں پر مبنی خارجہ امور کی کمیٹی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ شام میں برطانوی سرگرمی کو بغیر کسی ’جامع منصوبے‘ کے مزید وسعت نہیں دی جاسکتی ہے۔

بی بی سی کا خیال ہے کہ وزیراعظم کی یہ حکمت عملی ہوگی کہ وہ ایوان نمائندگان کو اس بات کے لیے راضی کریں کہ شام میں برطانوی فوج کشی جاری رہ سکے۔

خیال رہے کہ سنہ 2013 میں ایوان پارلیمان نے شام حکومت کے خلاف برطانوی کارروائی کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

لیکن بعد میں انھوں نے عراق میں دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف فضائی حملوں میں برطانیہ کی شرکت کی اجازت دے دی تھی۔

یہ نئی کوشش تمام پارٹیوں کے رکن پارلیمان کو شام میں برطانیہ کے ایکشن کے بارے میں راضی کرنے پر مرکوز ہوگي۔

اس سے قبل خارجہ امور نے عراق میں فضائی حملے میں شرکت کی اجازت دی تھی
،تصویر کا کیپشناس سے قبل خارجہ امور نے عراق میں فضائی حملے میں شرکت کی اجازت دی تھی

خارجہ امور کی کمیٹی نے کہا تھا: ’شام میں برطانوی فوجی کارروائی میں کوئی توسیع اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک کہ جامع بین الاقوامی حکمت علمی نہیں پیش کی جاتی جس میں دولت اسلامیہ کی شکست کا حقیقی امکان ہو۔‘

بی بی سی کے سیاسی نامہ نگار ایان واٹسن کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کو یہ یقین ہے کہ وہ کمیٹی کے خدشات کا جواب دے سکتے ہیں اور وہ سفارتی، سیاسی اور فوجی تجاویز کا ایک سلسلہ اس ہفتے کے آخیر تک پیش کر سکتے ہیں۔

ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں فوجی کارروائی کے لیے کسی قسم کی ووٹنگ کی کوئی جلدی نہیں ہے جبکہ ڈاؤننگ سٹریٹ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی ان کے پاس واضح جیت کے لیے ’یقینی حمایت‘ کے خاطر خواہ وعدے نہیں ہیں۔

لیکن ٹیلی گراف اور دا ٹائمز جیسے بعض اخبارات کا کہنا ہے کہ اس بابت ووٹ کرسمس سے قبل کرائے جا سکتے ہیں اور اس کے بعد بمباری کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔