کرد جنگجوؤں کے ہاتھوں عرب آبادی کےمکانات کی تباہی

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ ان کی رپورٹ کی سیٹلائٹ سے لے لی جانے والی تصاویر سے بھی تصدیق ہوتی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنایمنسٹی کا کہنا ہے کہ ان کی رپورٹ کی سیٹلائٹ سے لے لی جانے والی تصاویر سے بھی تصدیق ہوتی ہے

انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ کرد پیش مرگاہ اور مسلح ملیشیا کے جنگجوؤں نے مل کر شمالی عراق میں عرب آبادی کے ہزاروں مکانات مسمار کر دیے ہیں۔

ادارے نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ انھوں نے ایسا انتقامی کارروائي کے طور پر کیا ہے کیونکہ ان کے خیال میں یہ لوگ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے حامی ہیں۔

<link type="page"><caption> دولت اسلامیہ نے 3500 عورتوں، بچوں کو غلام بنا رکھا ہے: اقوام متحدہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/01/160119_un_report_on_iraq_violence_sr.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> عراق: 40 فیصد علاقہ دولت اسلامیہ کے ہاتھ سے نکل گیا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/01/160105_islamicstate_iraq_as.shtml" platform="highweb"/></link>

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ کردستان علاقائی حکومت کی فورسز (کے آر جی) دولت اسلامیہ سے دوبارہ حاصل کیے جانے والے علاقوں میں جنگی جرائم کی مرتکب ہو سکتی ہیں۔

ایمنسٹی نے کرد جنگجوؤں کے جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کی جانب اشارہ کیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنایمنسٹی نے کرد جنگجوؤں کے جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کی جانب اشارہ کیا ہے

کرد حکام کی جانب سے ابھی تک ان الزمات پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

13 گاؤں اور 100 سے زیادہ عینی شاہدین اور متاثرین کے شواہد پر مبنی ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ ’جلاوطن اور بے گھر‘ میں کہا ہے کہ شمالی عراق میں زبردستی بے گھر کیا گیا ہے اور دانستہ طور پر بربادی کی گئی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ان کی رپورٹ کی سیٹلائٹ سے لے لی جانے والی تصاویر سے بھی تصدیق ہوتی ہے جس میں پیش مرگ فورسز نے وسیع پیمانے پر تباہی مچائی ہے، بعض معاملوں میں یزیدی جنگجو اور ترکی اور شام کے کرد جنگجو بھی شامل ہیں جو وہاں پیش مرگ کے ساتھ مل کر جنگ کررہے ہیں۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ عربوں کے گھروں کو دانستہ طور پر تباہ کیا گيا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنایمنسٹی کا کہنا ہے کہ عربوں کے گھروں کو دانستہ طور پر تباہ کیا گيا ہے

ایمنسٹی کی بحران کے متعلق مشیر ڈونا ٹیلا روویرا نے کہا: ’بغیر کسی عسکری جواز کے شہریوں کا زبردستی انخلا اور دانستہ طور پر گھروں اور املاک کی تباہی جنگی جرائم ہو سکتے ہیں۔‘

ایمنسٹی نے کہا کہ جن عربوں کو ان سے گھر خالی کروائے گئے اب انھیں ان کے گھروں میں جانے سے کردستان کی علاقی حکومت روک رہی ہے۔

مز روویرا نے کہا: ’ہزاروں عرب شہری کو جنگ کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑنے پڑے اور اب وہ عارضی کیمپس اور مایوسی کے حالات میں زندہ رہنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

ہزاروں عرب شہری عارضی کیمپس میں انتہائی مایوسی کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں

،تصویر کا ذریعہAmnesty International

،تصویر کا کیپشنہزاروں عرب شہری عارضی کیمپس میں انتہائی مایوسی کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں

’ان میں سے بہت سے لوگوں کے روزگار چھن گئے ہیں اور گھر کے ساتھ ان کی املاک جا چکی ہیں اور ان کے پاس واپسی کے لیے کچھ نہیں ہے۔

’انھیں ان کے گاؤں واپس نہیں ہونے دینے اور ان کا گھر تباہ کرکے کے آرجی ان کی مشکلات میں دو چند اضافہ کر رہی ہے۔‘