کوبانی کے دفاع کے لیے عراقی کرد جنگجو روانہ

،تصویر کا ذریعہAFP

عراق میں کرد سکیورٹی فورس کے اہلکار ترکی جا رہے ہیں جہاں سے وہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے محاصرے میں شامی شہر کوبانی میں شامی کردوں کی مدد کے لیے جائیں گے۔

ترکی کی سرحد سے متصل شامی شہر کوبانی کا دولت ِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے محاصرہ کر رکھا ہے اور وہ شہر پر قبضے کے لیے کئی ہفتوں سے کوشاں ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ کرد سکیورٹی فورس پیشمرگا کے 150 اہلکار اربیل سے ایک جہاز کے ذریعے ترکی کے لیے روانہ ہوئے ہیں جب کہ بھاری ہتھیاروں کو زمینی راستے سے منتقل کیا جائے گا۔

ترکی نےگذشتہ ہفتے کرد جنگجوؤں کو سرحد پار کر کے کوبانی میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کےخلاف لڑنے کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

عراقی کرد حکام کا کہنا ہے کہ پیشمرگا اہلکار ترکی کے جنوبی مشرقی شہر سیلوپی پہنچیں گے اور وہاں سے شامی شہر کوبانی جائیں گے۔

کرد پارلیمان نے گذشتہ ہفتے 150 جنگجوؤں کو کوبانی کے دفاع کے لیے بھیجنے کی منظوری دی تھی تاہم ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ اہلکاروں کی روانگی میں تاخیر کیوں ہوئی۔

ایک پیشمرگا کمانڈر نے امریکی ٹی وی چینل سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا:’لاجسٹک مسائل‘ درپیش ہیں لیکن اس کے ساتھ ترکی کے حکام اور کوبانی کا دفاع کرنے والے شامی کرد پاپولر پورٹیکشن یونٹ یعنی وائے پی جی کے درمیان تنازعے کی اطلاعات بھی ہیں۔

ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اناتولیا کے مطابق منگل کو ترک وزیرِ خارجہ میولت کواسوگلو نے کہا ہے کہ اب کوئی سیاسی مسئلہ نہیں رہا ہے اور سرحد پار کرنے میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔

امریکی قیادت میں قائم اتحاد کوبانی کو بچانے کے لیے دولت اسلامیہ پر فضائی حملے کر رہا ہے
،تصویر کا کیپشنامریکی قیادت میں قائم اتحاد کوبانی کو بچانے کے لیے دولت اسلامیہ پر فضائی حملے کر رہا ہے

دوسری جانب یو پی جی کے اہلکار ادریس نسان کا کہنا ہے کہ انھیں ابھی تک معلوم نہیں ہے کہ پیشمرگا اہلکار کب پہنچیں گے۔

انھوں نے کہا کہ پیشمرگا اہلکاروں کی آمد کے بارے میں صرف سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور خبروں کے ذریعے ہی اطلاعات مل رہی ہیں۔

امریکہ کی قیادت میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف قائم اتحاد نے متعدد بار کوبانی میں شدت پسندوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے اور اس وجہ سے دولتِ اسلامیہ کو شہر پر قبضے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

اس کے علاوہ امریکہ نے کوبانی کا دفاع کرنے والے کرد جنگجوؤں کے لیے ہتھیار بھی طیارے کے ذریعے پھینکے تھے۔

کوبانی شہر کی جانب شدت پسندوں کی پیش قدمی کے بعد شہر اور علاقے سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ترکی میں پناہ حاصل کی ہے۔

خیال رہے کہ دولتِ اسلامیہ نے شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر کنٹرول قائم کر لیا ہے۔ کوبانی پر مکمل کنٹرول کے بعد دولت اسلامیہ ترکی سے متصل شام کی سرحد کے ایک بڑے حصّے پر قابض ہو جائے گی۔