اسرائیلی فوج پر حملہ کرنے والے چار فلسطینی نوجوان ہلاک

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غربِ اردن میں اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کرنے کی کوشش کرنے والے چار فلسطینی نوجوانوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
فوج کا کہنا ہے کہ چاروں حملہ آوروں کو دو مختلف واقعات میں ہلاک کیا گیا ہے۔
فلسطینی حکام نے بھی ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے تاہم ان حملوں میں کسی بھی اسرائیلی فوجی کے زخمی ہونےکی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔
حالیہ مہینوں میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان شورش میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’چاقوؤں سے لیس تین حملہ آوروں نے گش ایتزیئون جنکشن پر پہرہ دینے والے فوجیوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔‘
اسرائیل کی فوج کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کےمطابق اس واقعے کے فوری بعد بیت الخلیل کے نزدیک ایک اور فلسطینی شہری نے اسرائیلی فوج پر حملہ کرنے کی کوشش کی جس میں وہ خود مارا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلسطینی میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والے حملہ آوروں کی عمریں 20 سے 22 سال کے درمیان تھیں۔
گذشتہ سال اکتوبر سے اب تک فلسطینیوں کی جانب سے چاقوؤں کے حملے، گاڑی کی ٹکر اور فائرنگ کے نتیجےمیں 22 اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اسی دوران اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں 140 فلسطینی شہری مارے گئے ہیں۔
ہلاک ہونے والے فلسطینیوں میں نصف اسرائیلی فوج کےساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہوئے۔
یاد رہے کہ امریکہ نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں سے کہا کہ مذاکرات کا سلسلہ بحال کر کے مسائل حل کیے جائیں۔







