تربوز کھانے والا کرکٹ کا شوقین

10 سالہ میچل نے بی بی سی کو بتایا کہ چھلکے سمیت تربوز کھانا توقع سے زیادہ مشکل تھا۔

،تصویر کا ذریعہNetwork Ten

،تصویر کا کیپشن10 سالہ میچل نے بی بی سی کو بتایا کہ چھلکے سمیت تربوز کھانا توقع سے زیادہ مشکل تھا۔

میلبرن میں کرکٹ میچ دیکھتے ہوئے چھلکے سمیت تربوز کھانے والے بچے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد اسے شائقینِ کرکٹ میں بہت مقبولیت ملی ہے۔

میچل شیبیکی جنھیں ’تربوز والا لڑکے‘ کا نام دیا گیا ہے کا کہنا ہے کہ ’ انھوں نے ایسا اس لیے کیا تھا تاکہ انھیں سٹیڈیم کی بڑی سکرین پر دیکھایا جائے۔‘

سنیچر کو میلبرن کے کرکٹ گروانڈ میں اس لڑکے کو چھلکے سمیت تربوز کھاتے دیکھ کر میچ کے کمنٹیٹرز نے بھی حیرت کا اظہار کیا تھا۔

اس لڑکے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سے آسٹریلیا میں سماجی رابطوں کی سائٹس پر ’واٹر میلن بوائے‘ کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے۔

10 سالہ میچل نے بی بی سی کو بتایا کہ چھلکے سمیت تربوز کھانا توقع سے زیادہ مشکل تھا۔

’یہ میری توقع سے زیادہ مشکل کام ثابت ہوا، پر میں بس کھاتا گیا۔‘

میچل کا کہنا ہے کہ وہ دو سال کی عمر سے تربوز کا چھلکا کھا رہے ہیں۔

’میں ایک لمبے عرصے سے اس طرح تربوز کھا رہا ہوں، مجھے اس کا ذائقہ پسند ہے۔‘

میچل کو سب سے پہلے کھیلوں کے چینل ESPN پر تربوز کھاتے ہوئے دکھایا گیا تھا اور ان کے اس عمل کو ’پلے آف دا ڈے‘ قرار دیا گیا تھا۔

اس حالیہ توجہ کے باوجود مچیل مغرور نہیں ہوئے ہیں اور ان کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ میں ہیرو نہیں ہوں، میں تو ایک عام سابچہ ہوں۔‘