تل ابیب میں فائرنگ، دو افراد ہلاک سات زخمی

پولیس علاقے میں مسلح حملہ آور کو تلاش کر رہی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپولیس علاقے میں مسلح حملہ آور کو تلاش کر رہی ہے

اسرائیل کی پولیس کا کہنا ہے کہ وسطی تل ابیب میں ایک مسلح شخص کی فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور کم سے کم سات افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس ترجمان مکی روزینفیلڈ کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار تل ابیب کے علاقے میں مشتبہ شخص کو تلاش کر رہے ہیں۔

 چار افراد شدید زخمی ہیں: پولیس
،تصویر کا کیپشن چار افراد شدید زخمی ہیں: پولیس

یہ واقعہ ڈیزنگوف سٹریٹ میں ایک بار میں پیش آیا ہے۔ تاہم ابھی تک فائرنگ کی اصل وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔

ایک عینی شاہد نے اسرائیلی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ حملہ آور نوجوان تھا اور اس کے پاس رائفل تھی۔

پولیس کے ترجمان میکی روزن فیلڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس حملے کا پس منظر کیا تھا؟ کیا یہ دہشت گردی تھی یا مجرمانہ کارروائی؟

کسی بھی حملے کے حوالے سے خاص وارننگ نہیں تھی: پولیس

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکسی بھی حملے کے حوالے سے خاص وارننگ نہیں تھی: پولیس

انھوں نے بتایا کہ چار افراد شدید زخمی ہیں۔

پولیس کے ترجمان میکی روزن فیلڈ کا کہنا ہے کہ تل ابیب کے مختلف علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی اور خفیہ اداروں کے یونٹس کام کر رہے تھے اور کسی بھی حملے کے حوالے سے خاص وارننگ نہیں تھی۔

تاہم دوسری جانب یروشلم پوسٹ نے شہر کے میئر کے حوالے سے خبر دی ہے کہ انھوں نے جائے وقوعہ پر صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ ’یہ بظاہر قوم پرستی کے جذبات سے متاثر ہو کیا جانے والا دہشت گردی کا حملہ ہے۔‘

23دسمبر کو 21 اسرائیلیوں کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا تھا
،تصویر کا کیپشن23دسمبر کو 21 اسرائیلیوں کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا تھا

23دسمبر کو 21 اسرائیلیوں کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا جن میں سے زیادہ تر کو فلسطینیوں کی جانب سے چاقو کے وار اور گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

کم سے کم 131 فلسطینی بھی ہلاک ہوئے ہیں جن میں آدھے سے زیادہ کے بارے میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حملہ آور تھے جبکہ دیگر اسرائیلی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہوئے۔

رپورٹس میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بار اور کیفے کو نشانہ بنایا گیا
،تصویر کا کیپشنرپورٹس میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بار اور کیفے کو نشانہ بنایا گیا

روزینفیلڈ نے ٹویٹر پر کہا ہے کہ ’یہ جاننے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا یہ مجرمانہ حملہ تھا یا دہشت گردوں کا حملہ تھا۔‘