امریکہ سے پوچھیں مسلمان خاندان کو کیوں روکا؟

لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والی برطانوی رکن پارلیمان سٹیلا کریسی

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنسٹیلا کریسی کا کہنا ہے کہ بغیر کسی وضاحت کے برطانوی مسلمانوں کے امریکہ جانے پر پابندی کے واقعات پر انھیں تشویش ہے

لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والی برطانوی رکن پارلیمان سٹیلا کریسی نے برطانوی وزیراعظم سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک مسلمان خاندان کو امریکہ جانے سے روکنے پر امریکہ سے وضاحت طلب کریں۔

11 افراد پر مشتمل اس خاندان کو 15 دسمبر کو بغیر کسی وضاحت کے لاس اینجلس جانے والی ایک پرواز پر سفر کرنے سے روک دیا گیا تھا۔

اس خاندان کا تعلق رکن پارلیمان سٹیلا کریسی کے حلقے والتھم سٹوو سے ہے۔ وہ چھٹیوں پر ڈزنی لینڈ جا رہے تھے کہ انھیں گیٹ وِک ایئرپورٹ پر روک دیا گیا۔

محمد طارق محمود کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان کو امریکہ جانے سے روکنے کی وجہ بیان نہیں کی گئی۔

ڈاؤننگ سٹریٹ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اس معاملے میں اٹھائے گئے اعتراضات کی وضاحت کریں گے۔

سٹیلا کریسی کا کہنا ہے کہ بغیر کسی وضاحت کے برطانوی مسلمانوں کے امریکہ جانے پر پابندی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور انھوں نے وزیر اعظم سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں امریکی حکام سے وضاحت طلب کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے خود امریکی سفارت خانے سے جواب طلب کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔

محمد طارق محمود اپنے بھائی اور نو بچوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے اور جنوبی کیلیفورنیا میں اپنے رشتے داروں سے ملنے کے علاوہ سیر کی غرض سے امریکہ جا رہے تھے۔

محمد طارق محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے چیک اِن کر لیا تھا اور کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ لیکن آخری لاؤنج میں جانے سے پہلے ہمیں روک لیا گیا۔

’برطانوی بارڈر فورس سے ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ میں معذرت چاہتا ہوں، آپ فلائٹ پر نہیں بیٹھ سکتے۔ ہمیں واشنگٹن سے ایک کال موصول ہوئی ہے کہ ہم اس خاندان کو فلائٹ پر نہ بیٹھنے دیں۔‘

محمد طارق محمود کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے بچوں کو ’اس ملک میں امن سے رہنے‘ کی تعلیم دی ہے اور مسلمانوں کے خلاف پائے جانے والے خوف پر بات کرنے کے لیے انھیں مقامی سکولوں میں مدعو کیا جاتا رہا ہے۔

بی بی سی ریڈیو فائیو لائیو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح ہے کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔

’میری داڑھی ہے اور میں بعض اوقات اسلامی لباس بھی پہنتا ہوں اس لیے مجھے روک کر پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔

’یہ حقیقت ہے کہ وہاں صرف ہم تھے جو ظاہری طور پر ایشیائی یا مسلمان تھے اور ہمارے لیے یہ شرمندگی کا باعث تھا کہ صرف ہمیں قطار سے نکالا گیا۔ بچوں کے لیے یہ سمجھنا بہت مشکل ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ایئرلائن ننے انھیں بتایا ہے کہ فلائٹ پر ان کے جو نو ہزار پاؤنڈ خرچ ہوئے تھے وہ واپس نہیں کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں ایئرپورٹ سے باہر لے جانے سے پہلے ڈیوٹی فری سے کی گئی خریداری بھی زبردستی واپس کروائی گئی۔

امیگریشن کے وزیر جیمز بروکنشائر کا کہنا ہے کہ حکومت اس معاملے کی تحقیقات کرے گی لیکن حتمی فیصلہ امریکی حکام کا ہے۔