’طیارے میں دھماکہ خیز مواد نہیں تھا‘

،تصویر کا ذریعہEPA
ایئر فرانس کے سربراہ نے کہا ہے کہ موریشیئس سے پیرس جانے والے طیارے کی کینیا میں ہنگامی لینڈنگ ایک ’غلط اطلاع‘ کی وجہ سے کرنا پڑی تھی۔
فریڈریک گیجے نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ مشتبہ پیکٹ میں صرف کاغذ اور ایک ٹائمر ملا ہے۔
انھوں نے کہا کہ مشتبہ شے ڈبے، کاغذ کے تہوں اور کچن ٹائمر جیسی چیز سے بنی ہوئی تھی جسے ٹوائلٹ میں شیشے کے پیچھے رکھا گیا تھا۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس میں کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں تھا اور موریشیئس میں طیارہ اڑنے سے پہلے ہونے والی سکیورٹی چیکنگ میں اس کا پتہ نہیں چل سکتا تھا۔
طیارے کے باتھ روم میں مشتبہ پیکٹ ملنے پر بوئنگ 777 نامی طیارے کے پائلٹوں نے ممباسا شہر کے ہوائی اڈے ’موئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ‘ پر طیارے کو اتارنے کی درخواست کی تھی۔
پولیس کے ترجمان چارلز اوینو نے کہا تھا کہ طیارے اور اس میں موجود مسافروں کو باحفاظت اتار لیا گیا ہے اور یہ کہ متعلقہ ماہرین مشتبہ پیکٹ کا جائزہ لے رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
چارلز اوینو نے بتایا کہ طیارے میں چار سو 59 مسافروں کے ساتھ 14 عملے کے ارکان موجود تھے اور یہ کہ طیارے نے موریشیئس سے اپنی پرواز رات کے ایک بجے شروع کی تھی۔
کینیائی حکام کا کہنا ہے کہ وہ کئی مسافروں سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے پی نے ایک پولیس اہکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹوائلٹ جانے والے ایک مسافر نے ایک چیز دیکھی تھی جو ’ایک ڈبے کے اوپر جڑے ہوئے ایک ٹائمر‘ کی طرح دکھائی دے رہی تھی۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کینیا کے ہوائی اڈے کے حکام نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’موئی ایئر پورٹ پر پروازوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے کیونکہ مشتبہ پیکٹ کو ہٹانے کے دوران ہوائی اڈے سے لوگوں کو نکالا گیا تھا۔‘
طیارہ براہ راست پیرس میں واقع ’چارلز ڈی گال‘ کے ہوائی اڈے کی جانب سفر کر رہا تھا۔
طیارے میں موجود ایک شخص بینوا لوچینی کے مطابق واقعے کے دوران مسافر پرسکون رہے اور عملے نے انھیں بتایا کہ طیارے میں ایک تکنیکی خرابی ہے جس کی وجہ سے اسے واپس موڑا جا رہا ہے۔
بینوا نے مزید کہا کہ ’جہاز بہت آہستہ آہستہ اپنی بلندی کم کر رہا تھا جس کی وجہ سے ہمیں احساس ہوا کہ غالباً کچھ خرابی ہوئی ہے لیکن ایئر فرانس کا عملہ بہت زبر دست تھا، انھوں نے سب کو بہت پر سکون اور خاموش رکھا۔‘







