ترکی کے قریب کشتی الٹنے سے 18 تارکینِ وطن ہلاک

ترکی کے کوسٹ گارڈز کا کہنا ہے کہ چودہ افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے تاہم بچوں سمیت 18 افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنترکی کے کوسٹ گارڈز کا کہنا ہے کہ چودہ افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے تاہم بچوں سمیت 18 افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں

ترکی کا کہنا ہے کہ سمندر میں کشتی الٹنے کے نتیجے میں کم سے کم 18 تارکینِ وطن ہلاک ہوگئے ہیں۔

ترکی کے کوسٹ گارڈز کے مطابق کشتی کا یہ حادثہ جنوبی ترکی کی سمندری حدود میں جمعے کو رات گئے پپیش آیا۔

<link type="page"><caption> پناہ گزینوں کے خطرناک بحری سفر کی کہانی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/05/150520_migrant_boat_rohingya_zh.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> انسانی سمگلنگ کے خلاف یورپی یونین کے ’آپریشن صوفیہ‘ کا آغاز</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151007_eu_launches_operation_sophia_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

لکڑی کی اس کشتی میں شام اور عراق سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن بھرے ہوئے تھے اور وہ یونان کے ساحل تک جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کی کشتی خلیجِ بوڈرم میں اُلٹ گئی۔

ترکی کے کوسٹ گارڈز کا کہنا ہے کہ چودہ افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے تاہم بچوں سمیت 18 افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔

یونان کے بعض جزیرے ترکی کے ساحل سے محض چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقعے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ تارکینِ وطن کے لیے یورپ میں داخلے کی پرکشش منزل بن گئے ہیں۔

گذشتہ ایک برس ہزاروں افراد نے شمالی اور مغربی یورپ میں داخلے کے لیے یہ مختصر لیکن خطرناک سفر کیا ہے۔ بگڑتی ہوئی موسمی صورتحال کے باعث یہ سفر معمول سے زیادہ خطرناک ہو گیا ہے۔

مہاجرین سے متعلق عالمی تنظیم کے مطابق سات لاکھ اکیاسی ہزار افراد رواں برس یونان کے ساحل پر پہنچے ہیں۔ زیادہ تر ترکی کے راستے ہی آئے۔

اقوامِ متحدہ کے مہاجرین سے متعلق ادارے کا کہنا ہے کہ رواں برس کم سے کم ساڑھے نو لاکھ افراد یورپ پہنچے ہیں۔