’شام پر برطانوی فضائی کارروائی میں وقت لگے گا‘

برطانوی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ برطانوی قوم کو شام میں فضائی کارروائی میں حصہ لینے والوں کے ساتھ یکجہتی اظہار کرنی چاہیے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبرطانوی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ برطانوی قوم کو شام میں فضائی کارروائی میں حصہ لینے والوں کے ساتھ یکجہتی اظہار کرنی چاہیے

برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو ختم کرنے کے مشن کو ’کچھ وقت‘ اور مستقل کوششوں کی ضرورت ہو گی۔

جمعرات کو برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی کہ چار برطانوی ٹورنیڈو جنگی طیاروں نے شام میں دولت اسلامیہ کے زیر قبضہ تیل کے ذخائر پر پہلے ’کامیاب‘ فضائی حملے کیے ہیں۔

ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ شام میں برطانیہ کی جانب سے تازہ ترین کارروائی سے ملک کو اس کے ’اتحادیوں سے مضبوط حمایت‘ حاصل ہوگی۔‘

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب برطانیہ کے دو اضافی ٹورنیڈو جنگی طیارے اور چھ ٹائفون جنگی طیارے خطے میں دولت اسلامیہ پر حملے کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔

برطانیہ کی جانب سے تازہ ترین فضائی کارروائی کے بعد ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ شام میں ہونے والی کارروائی میں ’صبر‘ کی ضرورت پڑے گی۔

انھوں نے کہا: ’ہم اپنے پائلٹوں کو ایک بہت مشکل کام سونپ رہے ہیں اور اس وقت ہمیں اُن سے اور اُن کے خاندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنی چاہیے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اس مشن کی منظوری کا فیصلہ ’ملک کے لیے اچھا ہے‘ اور یہ کہ ’ عراق سے شام میں ہمارے فضائی حملے بڑھانے کے لیے ہمارے پاس ٹھوس ثبوت موجود تھے اور میں خوش ہوں کہ برطانوی پارلیمان سے ہمیں اتنی مضبوط حمایت حاصل ہوئی ہے۔‘

چار برطانوی ٹورنیڈو جنگی طیاروں نے شام میں پہلی کارروائی کی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنچار برطانوی ٹورنیڈو جنگی طیاروں نے شام میں پہلی کارروائی کی ہے

برطانیہ کی پارلیمان کی جانب سے شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی حملوں کی اجازت ملنے کے چند ہی گھنٹوں بعد برطانیہ نے شام میں فضائی کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔

وزارت دفاع نے بتایا کہ قبرص میں برطانوی ایئر فورس کے فضائی اڈے سے چار برطانوی ٹورنیڈو جنگی طیاروں نے پرواز کی اور شام میں بمباری کی ہے۔

وزارتِ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’شام میں پہلے حملے کر دیے گئے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ چار سے میں دو ٹورنیڈو جنگی طیارے پرواز کرنے کے تین گھنٹے بعد واپس آ گئے ہیں۔

امکان ہے کہ جمعرات کو شام میں فضائی حملوں کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز برطانوی دارالعوام نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف شام میں فضائی کارروائیاں کرنے کا اختیار دے دیا تھا۔

بدھ کو ہونے والی ووٹنگ میں 397 اراکین نے شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائیوں کی حمایت میں ووٹ دیا جبکہ اس کی مخالفت میں 223 ووٹ پڑے تھے۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ایوان میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں کا مقصد دہشت گرد حملوں سے’برطانوی عوام کو محفوظ رکھنا ہے۔‘

ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ’انھوں نے ملک کو محفوظ رکھنے کے لیے صحیح فیصلہ لیا ہے۔‘ دوسری جانب اس فیصلے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ ایک غلطی ہے۔

بی بی سی کے اندازوں کے مطابق لیبر جماعت کے 67 ارکان پارلیمان نے بھی حکومت کی حمایت میں ووٹ ڈالے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق عراق میں برطانوی افواج دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائی میں شامل ہیں اور شام میں ایسے حملے کرنے کے لیے وہ کافی عرصے سے تیاری کر رہے تھے۔

دوسری جانب امریکی صدر باراک اوباما نے برطانوی دارالعوام کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔