ہر پانچواں برطانوی مسلمان جہادیوں کا ہمدرد؟

برطانیہ میں اس سے قبل بھی اس قسم کے سروے ہوتے رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنبرطانیہ میں اس سے قبل بھی اس قسم کے سروے ہوتے رہے ہیں

گذشتہ ہفتے برطانیہ کے مقبول عام اخبار ’دا سن‘ کی شہ سرخی یہ تھی: ’ہر پانچواں برطانوی مسلمان جہادیوں سے ہمدردی رکھتا ہے۔‘ یہ اعداد و شمار کہاں سے آئے اور کتنے قابل یقین ہیں؟

اس کے فوراً بعد برطانوی مسلمانوں کی جانب سے اس کی تردید کی جانے لگی اور مشتعل ویڈیوز جاری کی جانے لگیں اور سوشل میڈیا پر اس خبر کا مذاق اڑانے کے لیے 1in5muslims# ٹرینڈ کرنے لگا۔

ادھر اخباروں کے ضابطہ کار ادارے انڈیپنڈنٹ پریس سٹینڈرڈ آرگنائزیشن کو اس کے متعلق 2600 سے زیادہ شکایتیں موصول ہوئيں۔

اخبار دا سن نے یہ اعداد و شمار سروے کرنے والی کمپنی ’سرویشن‘ سے حاصل کیے تھے جنھوں نے حالیہ پیرس حملوں کے بعد ایک ہزار برطانوی مسلمانوں سے ٹیلیفون پر انٹرویو کیا تھا۔

دا سن نے جس سروے کا استعمال کیا ہے اسے سرویشن نامی کمپنی نے کرایا ہے

،تصویر کا ذریعہNews UK

،تصویر کا کیپشندا سن نے جس سروے کا استعمال کیا ہے اسے سرویشن نامی کمپنی نے کرایا ہے

اس میں ایک سوال یہ تھا کہ آپ درج ذیل میں سے کون سا بیان درست سمجھتے ہیں:

  • مجھے ان نوجوان مسلمان بچوں کے ساتھ بہت ہمدردی ہے جو برطانیہ چھوڑ کر شام میں جنگجوؤں میں شامل ہو رہے ہیں۔
  • مجھے ان نوجوان مسلمان بچوں کے ساتھ قدرے ہمدردی ہے جو برطانیہ چھوڑ کر شام میں جنگجوؤں میں شامل ہو رہے ہیں۔
  • مجھے ان نوجوان مسلمان بچوں کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں ہے جو برطانیہ چھوڑ کر شام میں جنگجوؤں میں شامل ہو رہے ہیں۔
  • مجھے پتہ نہیں۔

شہ سرخی میں جو لفظ ’جہادی‘ لفظ کا استعمال ہوا ہے اس کا ذکر سوال میں کہیں نہیں ہے۔ اور یہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ شام جانے والا ہر شخص دولت اسلامیہ یا کسی دوسری دہشت گرد تنظیم کے لیے ہی لڑنے جا رہا ہو۔ ممکن ہے ان میں سے بعض دہشت گردوں کے خلاف لڑنے والی کسی تنظیم میں شامل ہونے جا رہے ہوں۔

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے چار فیصد افراد نے بتایا کہ انھیں ’بہت ہمدردی ہے،‘ جبکہ 14 فی صد نے بتایا کہ انھیں ’تھوڑی ہمدردی ہے۔‘ مجموعی طور پر یہ 18 فی صد ہوئے جسے دا سن نے استعمال کیا ہے۔

برطانیہ کے مسلمانوں نے اس کے خلاف بڑی تعداد میں شکایت کی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنبرطانیہ کے مسلمانوں نے اس کے خلاف بڑی تعداد میں شکایت کی ہے

اقلیتوں کے سروے کی ماہر مانچسٹر یونیورسٹی کی ماریا سوبولیوسکا کا کہنا ہے کہ لفظ ’ہمدردی‘ (sympathy) بھی مبہم ہے اور اس کے استعمال سے نتائج متاثر ہو سکتے ہیں۔ اوکسفرڈ ڈکشنری میں اس کے دو معانی ہیں:

  • کسی کی بدقسمتی پر رحم اور افسوس کا اظہار
  • لوگوں کے درمیان افہام تفہیم، مشترکہ احساس

سوبولیوسکا کا کہنا ہے کہ جواب دینے والوں کا ’یہ خیال ہو سکتا ہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے لیے حالات انتہائي خراب ہیں، بڑے پیمانے پر جنگ و جدل جاری ہے اور شاید مغربی یورپ میں ان کے خلاف تعصبات پائے جاتے ہیں اور اس لیے وہ شخص ان لڑکوں کے لیے ہمدردی رکھتا ہے جو مایوسی کے عالم دہشت گردی کی جانب مائل ہو جاتے ہیں۔

’یا پھر یہ محض جذباتی مشترکہ احساس ہے یا پھر یہ کسی سطح پر دہشت گردی کو خاموش تعاون ہے۔ میری سمجھ سے بعد والے مفہوم تک پہنچنا بہت زیادہ کھینچا تانی کے مترادف ہے۔‘

بہت سے لوگوں کا خیال ہے نوجوانوں کی ذہن سازی کی جاتی ہے
،تصویر کا کیپشنبہت سے لوگوں کا خیال ہے نوجوانوں کی ذہن سازی کی جاتی ہے

اس فرق کی جانب انھوں نے بھی اشارہ کیا تھا جنھوں نے اس سروے میں مدد کی تھی۔ ’وائس‘ نامی نیوز ویب سائٹ پر انھوں نے بغیر نام دیے لکھا کہ جس طرح اتنا پیچیدہ مسئلہ پیش کیا گيا وہ اس پر متفق نہیں تھے۔

انھوں نے لکھا کہ ’جس کسی نے بھی یہ کہا ہے کہ انھیں قدرے ہمدردی ہے، ان میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ وہ جہادیوں کی حمایت کرتے ہیں۔

’ایک خاتون نے ہر سوال کا ہمیں بہت سوچ سمجھ کر جواب دیا۔ ان کے مطابق ’ڈیوڈ کیمرون شام پر بمباری کرنے میں حق بہ جانب ہیں اور مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ اسلام کے نام پر کیے جانے حملوں کی مذمت کریں۔ پھر بھی انھوں نے کہا کہ انھیں نوجوان برطانوی مسلمانوں سے قدرے ہمدردی ہے۔‘

’انھوں (خاتون) نے کہا کہ ان کی ذہن سازی کر دی جاتی ہے، مجھے ان کے لیے افسوس ہوتا ہے۔‘