پسٹوریئس کیس میں فیصلہ تبدیل: ’جان بوجھ‘ کر قتل کیا گیا

پسٹوریئس کا ہمیشہ یہی موقف رہا ہے کہ ان کی دانست میں باتھ روم میں چور تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپسٹوریئس کا ہمیشہ یہی موقف رہا ہے کہ ان کی دانست میں باتھ روم میں چور تھا

جنوبی افریقہ کی ایک عدالت نے اولمپک ایتھلیٹ آسکر پسٹوریئس کو سنائے گئے قتل خطا کے پرانے فیصلے کو تبدیل کر کے انھیں قتل کا مرتکب قرار دیا ہے۔

سنہ 2013 میں پسٹوریئس نے اپنی گرل فرینڈ ریوا سٹین کیمپ پر اس وقت چار مرتبہ گولی چلائی تھی جب وہ باتھ روم میں تھیں۔

’بلوم فونتین‘ کے علاقے میں قائم عدالت کی سماعت میں پسٹوریئس نے شرکت نہیں کی۔

آسکر پسٹوریئس کو اکتوبر میں ایک سال قید کی سزا کاٹنے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا اور اِس وقت وہ اپنی سزا کے بقیہ چار سال اپنے چچا کے مکان میں نظربند رہ کر گزار رہے ہیں۔

اب انھیں اپنے خلاف نئے فیصلے کو سننے کے لیے عدالت میں دوبارہ حاضر ہونا پڑے گا۔

جنوبی افریقی سپریم کورٹ نے اپنے نئے فیصلے میں کہا ہے کہ کیس کی گذشتہ عدالت نے ایک اہم اصول پر غور نہیں کیا تھا، جس کے مطابق یہ پتہ چلانا ضروری تھا کہ کیا آسکر پسٹوریئس کو معلوم تھا کہ ان کے فعل کے نتیجے میں موت واقع ہو سکتی تھی۔

پسٹوریئس اپنے خلاف سنائے گئے نئے حکم کو آئینی عدالت میں چیلنج کر سکتے ہیں لیکن صرف اس صورت میں کہ ان کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپسٹوریئس اپنے خلاف سنائے گئے نئے حکم کو آئینی عدالت میں چیلنج کر سکتے ہیں لیکن صرف اس صورت میں کہ ان کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے
سنہ 2013 میں پسٹوریئس نے اپنی گرل فرینڈ ریوا سٹین کیمپ پر اس وقت چار مرتبہ گولیاں چلائی تھیں جب وہ باتھ روم میں تھیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسنہ 2013 میں پسٹوریئس نے اپنی گرل فرینڈ ریوا سٹین کیمپ پر اس وقت چار مرتبہ گولیاں چلائی تھیں جب وہ باتھ روم میں تھیں

قتل کے جرم کی کم سے کم سزا 15 سال قید ہوتی ہے لیکن جج اپنی مرضی سے بھی سزا چن سکتے ہیں۔

جوہانسبرگ میں بی بی سی کی نامہ نگار پمزا فلانی کے مطابق جنوبی افریقہ میں کسی کو پانچ سال سے زیادہ عرصہ نظر بند نہیں کیا جا سکتا۔

پانچ ججوں کا مجموعی فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس ایرک لیچ نے کہا کہ اگر پسٹوریئس نے اپنے آپ کو اتنے خطرناک ہتھیار سے لیس کیا ہوا تھا تو انھیں یہ بھی ضرور علم ہوگا کہ وہ باتھ روم میں موجود جس کو بھی گولی ماریں گے، وہ ہلاک ہو سکتا ہے۔

جج نے کہا: ’عقَلِ سَلیم کہتی ہے کہ جب یہ قاتلانہ فائرنگ کی گئی تو دروازے کے پیچھے موجود انسان کی ہلاکت کے امکان ظاہر تھے۔ اور ایک نہیں بلکہ جب چار بار گولی ماری گئی تو اس نتیجے کے امکانات مزید بڑھ گئے۔‘

پسٹوریئس کا ہمیشہ یہی موقف رہا ہے کہ ان کی دانست میں باتھ روم میں چور تھا۔ لیکن جج نے کہا کہ دروازے کے پیچھے موجود شخص کی شناخت کا ’پسٹوریئس کے جرم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

جج نے اس موقف کو بھی مسترد کر دیا کہ پسٹوریئس نے اپنے دفاع میں گولی چلائی تھی۔

جج نے مزید کہا کہ فائرنگ کے وقت پسٹوریئس کی جان کو خطرہ اس لیے در پیش نہیں تھا کہ انھیں یہ نہیں معلوم تھا کہ ان کے باتھ روم کے دروازے کے پیچھے کون تھا۔

جیل میں پسٹوریئس کا بستر

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجیل میں پسٹوریئس کا بستر

جج نے یہ بھی کہا کہ پسٹوریئس نے ’ایک انتباہی فائر نہ کر کے سب سے ابتدائی احتیاط بھی نہیں کی۔‘

بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ میں کئی لوگ آسکر پسٹوریئس کو سنائے گئے پہلے فیصلے سے ناراض تھے جس میں انھیں قتل کے الزامات سے بری کر دیا گیا تھا۔

خواتین کے حقوق کے لیے لڑنے والی تنظیموں کا کہنا تھا کہ پسٹوریئس کو ایک مثال کے طور پر قتل کے الزام میں مجرم قرار دیا جانا چاہیے تھا کیونکہ ملک میں کئی خواتین اپنے شوہروں کے ہاتھوں ہلاک ہو جاتی ہیں۔

آسکر پسٹوریئس کو 19 اکتوبر کے دن قید سے رہا کیا گیا تھا۔

جنوبی افریقہ کے قواعد قانون کے تحت اپنی سزا کی مدت کا چھٹا حصہ کاٹنے کے بعد پسٹوریئس کو ’اصلاحی نگرانی‘ کے تحت رہا کیا جانا تھا۔

پسٹوریئس اپنے خلاف سنائے گئے نئے فیصلے کو آئینی عدالت میں چیلنج کر سکتے ہیں لیکن صرف اس صورت میں کہ ان کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔