آسیان کے رکن ممالک کا معاشی بلاک قائم

آسیان کے رکن ممالک کے سربراہی اجلاس میں معاشی برادری کے قیام کے اعلامیے پر دستخط کیے گئے
،تصویر کا کیپشنآسیان کے رکن ممالک کے سربراہی اجلاس میں معاشی برادری کے قیام کے اعلامیے پر دستخط کیے گئے

جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے دس رکن ممالک کے رہنماؤں نے ایک اعلامیہ پر دستخط کیا ہے جس سے ’آسیان اقتصادی برادری‘ کا باضابطہ قیام عمل میں آیا ہے۔

یہ اعلامیہ ملائیشیا کے دارالحکومت کولالمپور میں سامنے آیا ہے جہاں آسیان کی سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی۔

نامہ نگاروں کے مطابق اس اعلامیے کے بعد تقریباً 60 کروڑ کی آبادی پر مبنی یہ خطہ آپس میں فری ٹریڈ خطہ بننے کے قریب تر آ گيا ہے۔

ہر چند کہ ابھی اس میں روکاوٹیں ہیں لیکن ملائیشیا کے وزیر اعظم نجیب رزاق نے کہا ہے کہ اس بلاک نے ’عملی طور پر تقریبا ٹیکس اور محصول کی روکاوٹیں ختم کردی ہیں۔ اور اب ہم مزید آزاد نقل و حمل کی یقین دہانی اور ترقی اور سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں دور کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں۔‘

انھوں نے اس اعلامیے کو ’بڑی کامیابی‘ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی طور پر متحد اور معاشی طور پر منسلک برادری کے قیام کی راہ میں ’میل کا پتھر‘ ہے۔

تاہم بی بی سی کے جنوب مشرقی ایشیا کے نمائندے کا کہنا ہے کہ خطے میں تجارت کا فروغ سست رفتاری کا شکار ہے اور آسیان معاشی برادری کا قیام حقیقت کے بجائے ابھی صرف تصور ہے۔

خیال رہے کہ آسیان کے رکن ممالک میں ملائشیا، لاؤس، برونیئی، کمبوڈیا، انڈونیشیا، میانمار، فلپائن، سنگاپور، تھائی لینڈ اور ویتنام شامل ہیں۔

اس نئے اعلامیے کے تحت آٹھ شعبے کے پیشہ وروں کو اس خطے میں زیادہ آسانیاں حاصل ہوں گی جن میں انجینیئرز، آرکیٹیکٹس، نرسز، ڈاکٹرز، ڈینٹسٹ، اکاؤنٹینٹس، سروے کرنے والے اور سیاحت کے پیشہ ور شامل ہیں۔

اس اعلامیہ پر دستخط کے بعد آسیان کے رہنماؤں نے ایشیا پیسفک کے آٹھ ديگر ممالک کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔ ان میں امریکہ، چین، جاپان، جنوبی کوریا، بھارت، روس، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔

اس کانفرنس میں جنوب بحیرہ چین میں چین کی سرگرمیوں کے علاوہ شدت پسندی کے تعلق سے بھی بات ہوئی۔