ملائیشیا میں پناہ گزینوں کی کشتی الٹ گئی

،تصویر کا ذریعہAFP
ملائیشیا میں حکام کے مطابق مغربی ساحل کے نزدیک پناہ گزینوں کی ایک کشتی الٹ گئی ہے جس میں کم از کم 70 افراد سوار تھے۔
حکام کے مطابق کشتی جمعرات کو علی الصبح سولنگا ریاست میں واقع سباک برنام قصبے کے نزدیک الٹی۔
ملائیشیا کے سمندری حکام کا کہنا ہے کہ کشتی الٹنے کے نتیجے میں 14 افراد جن میں 13 خواتین اور ایک مرد شامل ہیں، ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ 15 دیگر افراد کو بچا لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق کشتی پر سوار مسافروں کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ انڈونیشیائی پناہ گزین ہیں۔
ملائیشیا کی سمندری ایجنسی کے سربراہ محمد الیاس ہمدان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ہمیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ پناہ گزین کشتی کے ذریعے ملائیشیا آ رہے تھے یا ملائیشیا کو چھوڑ کر جا رہے تھے۔
واضح رہے کہ انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد غیر قانونی طور پر ملائیشیا کے کھیتوں اور دیگر صنعتوں میں کام کرتے ہیں اور وہ اپنے گھروں کو واپس جانے کے لیے اکثر سمندر کا پرخطر سفر کرتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ زندہ بچ جانے والے افراد کی تلاش کے لیے بحری جہاز روانہ کر دیے گئے ہیں جبکہ ایک ہوائی جہاز بھی بھیجا گیا ہے۔
واضح رہے کہ جون 2014 میں بھی اسی جگہ انڈونیشیا کے تارکین وطن سے بھری ہوئی دو کشتیاں الٹنے سے کم سے کم 15 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تھائی پولیس کی جانب سے انسانوں کی سمگلنگ کرنے والے گروہوں پر سختی کرنے کے بعد سے جنوب مشرقی ایشیا میں تارکین وطن کا مسئلہ ابھر کر سامنے آیا ہے۔
میانمار سے بھاگ کر جانے والے روہنگیا مسلمانوں اور ملائیشیا اور انڈونیشیا جانے والوں میں بوسیدہ کشتیوں میں خطرناک راستے عبور کرنے کے رجحان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
تھائی لینڈ کے جنوبی اور ملائیشیا کے شمالی علاقوں میں واقع کیمپوں میں کئی اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں جہاں سمگلر تارکین وطن کو رکھتے تھے۔







