’وہ گھر والوں کو حیران کرنا چاہتی تھیں‘

ملیشیائی بحری حکام نے پیر کو کہا ہے کہ ملائیشیا کے ساحل کے نزدیک الٹنے والی کشتی سے 61 لاشیں نکالی گئی ہیں جس میں غیر قانونی انڈونیشیائی تارکین وطن سوار تھے۔
حکام کے مطابق یہ کشتی جمعرات کو علی الصبح سولنگا ریاست میں واقع سباک برنام قصبے کے نزدیک الٹی۔
حکام نے گذشتہ جمعرات کو نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ کشتی کے الٹنے کی وجوہات خراب موسم اور زیادہ بوجھ ہو سکتی ہیں کیونکہ کئی تارکین وطن عید الاضحیٰ کی چھٹیوں پر واپس گھر کا سفر کر رہے تھے۔
بحری ایجنسی کے تلاش اور ریسکیو ڈویژن کےڈائریکٹر رابرٹ ٹے نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ مرنے والوں میں زیادہ تر تعداد مردوں کی ہے لیکن ایک بچی بھی کشتی پر سوار تھی۔ گذشتہ جمعرات کو ہونے والے حادثے میں صرف 20 بچنے والوں کی خبر ملی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ساحلی پولیس نے کہا ہے کہ مرنے والوں میں ایک لڑکی کی لاش بھی ملی ہے۔
ملائیشین بحری انفورسمنٹ ایجنسی کے ایک اہلکار محمد الیاس ہمدن نے اے ایف پی کو بتایا کہ اتوار کی رات کو انھیں 11 لاشیں ملیں۔ منے والوں میں 37 مرد، 23 خواتین اور ایک تین سالہ بچی شامل تھے۔
انھوں نے کہا کہ 20 بچائے جانے والے انڈونیشیائی صحت مند حالت میں ہیں اور بحری حکام نے انھیں اپنی حراست میں لے لیا ہے۔
رابرٹ نے کہا کہ ’اگر آج مزید لاشیں نہ ملیں تو شاید کل ہمیں یہ آپریشن ختم کرنا پڑے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہEPA
متاثرین میں سے ایک خاتون آسمینہ تین سال بعد واپس گھر جا رہی تھیں۔ ان کے سب سے بڑے بیٹے یان اکبار نے روئٹرز سے کہا کہ صرف انھیں اپنی والدہ کے آنے کی خبر معلوم تھی۔ انھوں نے کہا ’وہ اپنے اہل خانہ کو حیران کرنا چاہتی تھیں۔‘
ملائیشیا کے 60 لاکھ قانونی اور غیر قانونی تارکین وطن کارکن انڈونیشیا سے تعلق رکھتے ہیں اور تعمیر، کاشت کاری، فیکٹریوں اور گھریلو خدمات کا کام کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ تھائی پولیس کی جانب سے انسانوں کی سمگلنگ کرنے والے گروہوں پر سختی کرنے کے بعد سے جنوب مشرقی ایشیا میں تارکین وطن کا مسئلہ ابھر کر سامنے آیا ہے۔
میانمار سے بھاگ کر جانے والے روہنگیا مسلمانوں اور ملائیشیا اور انڈونیشیا جانے والوں میں بوسیدہ کشتیوں میں خطرناک راستے عبور کرنے کے رجحان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
تھائی لینڈ کے جنوبی اور ملائیشیا کے شمالی علاقوں میں واقع کیمپوں میں کئی اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں جہاں سمگلر تارکین وطن کو رکھتے تھے۔







