اسرائیلی شہری پیرا گلائیڈر کے ذریعے شام پہنچ گیا

اسرائیلی افواج کا کہنا ہے کہ گولان کی پہاڑیوں کے قریب اترنے والے اس شخص کو تمام تر کو ششوں کی باوجـود تلاش نہیں کیا جاسکا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشناسرائیلی افواج کا کہنا ہے کہ گولان کی پہاڑیوں کے قریب اترنے والے اس شخص کو تمام تر کو ششوں کی باوجـود تلاش نہیں کیا جاسکا

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایک عرب اسرائیلی شہری جان بوجھ کر پیرا گلائیڈر کے ذریعے شام کی سرحد کے اندر اترا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ شخص ایک شامی باغی گروہ میں شمولیت کی نیت سے شام گیا ہے۔

ملک کے وزیرِاعظم نیتن یاہو نے اس شخص کی شہریت منسوخ کرنے کی دھمکی دی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق سنیچر کی شب اسرائیلی افواج سرحدی علاقے میں کسی کارروائی میں مصروف تھیں جس کے دوران طیاروں سے روشنی کے گولے بھی علاقے میں گرائے گئے۔

واضع رہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی میں بظاہر اسرائیل کسی فریق کی حمایت نہیں کر رہا ہے۔

اسرائیل نے اپنے شہریوں پر شام جانے کی پابندی لگائی ہوئی ہے لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ چند عرب اسرائیلی صدر اسد کی افواج کے خلاف لڑنے والے باغی گروہ میں شامل ہیں۔

پیرا گلائیڈر کے ذریعے سنیچر کی رات شام پہنچنے والے شخص کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق اسرائیل کے ایک مسلم اکثریت والے قصبے جل جولیا سے ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی افواج کا کہنا ہے کہ گولان کی پہاڑیوں کے قریب اترنے والے اس شخص کو تمام تر کو ششوں کی باوجـود تلاش نہیں کیا جا سکا۔

یاد رہے کہ اسرائیل شام کے جنوب مغربی علاقے میں واقع گولان پہاڑیوں پر سنہ 1981 سے غیر قانونی طور پر قابض ہے۔