بی سی سی آئی ہیڈکوارٹر پر شیو سینا کا دھاوا
بھارت کی ہندو نواز جماعت شیو سینا نے پاکستان کے ساتھ کرکٹ کے روابط بحال کرنے کے لیے بات چیت کرنے پر بھارتی کرکٹ بورڈ کے دفتر پر حملہ کیا ہے۔
یہ دھاوا ایسے وقت بولا گیا جب پاکستانی کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان کی صدارت میں ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی اس سلسلے میں مذاکرات کے لیے بی سی سی آئی کے ممبئی میں واقع ہیڈ کوارٹر پہنچے ہوئے ہیں۔
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ جب شیو سینکوں نے دفتر پر حملہ کیا اس وقت اجلاس جاری تھا یا پاکستانی وفد اجلاس کے لیے ہوٹل سے آ رہا تھا۔
شیو سینا کے درجنوں کارکنان نے دفتر کے باہر پاکستان ہائے ہائے کا نعرہ لگا رہے تھے اور بھارتی بورڈ کے خلاف بھی نعرے بازی کر رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے ’شہر یار خان واپس جاؤ۔‘
ممبئی پولیس کے حکام کے مطابق 30 سے 35 افراد بھارتی کرکٹ بورڈ کے دفتر میں گھسے اور اس واقعے کے تناظر میں دس افراد کو حراست میں لینے کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔
آئی سی سی کے صدر اور سابق پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر ظہیر عباس نے پی ٹی وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بی سی سی آئی کے دفتر پر حملہ قابل مذمت ہے لیکن آئی سی سی اس حملے کا نوٹس نہیں لے سکتی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر پاک بھارت کرکٹ سیریز منسوخ ہوتی ہے تو اس کے نتائج انتہائی خراب ہوں گے۔‘
آئی پی ایل کے کمشنر راجیو شکلا نے بھی صحافیوں سے بات چیت میں اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا کہ بھارت اور پاک کے درمیان جب بھی کوئی سیریز ہوتی ہے تو حکومت سے صلاح و مشورہ کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا: ’بھارت اور پاکستان کے کرکٹ بورڈوں کے درمیان بات چیت تو چلتی ہی رہتی ہے ۔۔۔ یہاں تک کہ جب بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہت خراب تھے تب بھی پاکستانی کرکٹ بورڈ ہمیشہ بھارتی بورڈ کے ساتھ کھڑا رہا۔‘
ان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا اب یہ ملاقات منسوخ کردی گئی ہے؟ تو ان کا کہنا تھا: ’میٹنگ اور بات چیت تو ضرور ہوگی۔ وہ اس طرح تھوڑی ٹل سکتی ہے۔‘
شیو سینا بھارت اور پاکستان کے درمیان رشتوں کی بحالی کی مخالف ہے۔
اس بارے میں ابھی بھارتی بورڈ کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو ڈیو رچرڈسن نے کہا ہے کہ دو ملکوں کے درمیان دو طرفہ سیریز دونوں کرکٹ بورڈز طے کرتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP
ابوظہبی سے نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق پیر کو پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کو رکن ممالک نے بتا دیا ہے کہ وہی دو طرفہ سیریز طے کریں گے لہذا فی الحال یہ معاملہ کرکٹ بورڈز کے ہاتھ میں ہے اور اس میں آئی سی سی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔
پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے بارے میں ڈیورچرڈسن کا کہنا تھا ک







