تارکین وطن کا بحران: کروئیشیا نے سربیا سے متصل سرحد کھول دی

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق ان تارکین وطن کی حالت ’ہولناک‘ ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق ان تارکین وطن کی حالت ’ہولناک‘ ہے

کروئیشیا نے سربیا کے ساتھ متصل اپنی سرحد کھول دی ہے جس سے ہزاروں کی تعداد میں محصور تارکین وطن کو شمال کی جانب جانے کا راستہ مہیا ہو گیا ہے۔

تقریباً تین ہزار کے قریب افراد کوئیشیا کی جانب سے کیے جانے والے نئے اقدامات اور سرحدی راستوں کی بندش کی وجہ سے سرد موسم اور بارش میں بلقان کی سرحد پر محصور ہو کر رہ گئے تھے۔

<link type="page"><caption> ہزاروں تارکینِ وطن بلقان میں سرحدوں پر محصور</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151019_migrants_crisis_balkan_route_hk" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ہنگری کی سرحد بند، ہزاروں پناہ گزینوں کی سلووینیا آمد</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151017_migrant_crisis_hungary_closed_border_sz" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> جرمنی براستہ بلقان کیوں؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/09/150908_migrants_balkan_route_hk" platform="highweb"/></link>

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق ان تارکین وطن کی حالت ’ہولناک‘ ہے۔

بہت سارے تارکین وطن کوئیشیا اور سلووینیا کی سرحد پر محصور ہو کر رہ گئے تھے۔ بلقان کا راستے پر وہاں کی حکومتوں کی جانب سے سختی کی گئی ہے ۔

بہت سارے تارکین وطن کوئشیا اور سلوینیا کی سرحد پر محصور ہو کر رہ گئے تھے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنبہت سارے تارکین وطن کوئشیا اور سلوینیا کی سرحد پر محصور ہو کر رہ گئے تھے

پیر کو برکاسوو کی سرحد پر موجود اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی ترجمان میلٹا سنجک نے بتایا کہ ’بغیر کسی اعلان کے سرحدیں کھول دی گئی ہیں۔ ہر کوئی جلدی سے جا رہا ہے۔‘

وہاں کے حالات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں بہت زیادہ چھوٹے بچے ہیں، ہمارے پاس معذور افراد ہیں، ہمارے پاس ایسے افراد ہیں جو سفر کے دوران بیمار ہوگئے ہیں۔‘

’یہ لوگوں کے رہنے کے جگہ نہیں ہے، وہ سو نہیں سکتے۔ وہ گیلی مٹی میں صرف کھڑے رہ سکتے ہیں۔‘

کوئشیا کی بسیں اب ہزاروں کو تعداد میں تارکین وطن کو قریب ہی واقع ایک ریسپشن سینٹر لے جا رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکوئشیا کی بسیں اب ہزاروں کو تعداد میں تارکین وطن کو قریب ہی واقع ایک ریسپشن سینٹر لے جا رہی ہیں

کوئشیا کی بسیں اب ہزاروں کو تعداد میں تارکین وطن کو قریب ہی واقع ایک ریسپشن سینٹر لے جا رہی ہیں۔

گذشتہ دنوں کروئشیا نے تارکین وطن کی آمد کو محدود کر دیا تھا، جب ہنگری نے سلووینیا کے ساتھ متصل اپنی سرحد کو بند کرتے ہوئے پابندیوں کا اعلان کیا تھا، جس سے یہ خدشہ بڑھ گیا تھا کہ بڑی تعداد میں تارکین وطن کروئیشیا میں محصور ہوجائیں گے۔

حالیہ دنوں میں کروئیشیا نے تارکین وطن سے بھری کم از کم دو ٹرینیں اور متعدد بسیں شمال کی جانب سلووینیا کی سرحد پر بھیجی ہیں۔

خیال رہے کہ حالیہ چند ماہ میں شام افریقہ اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے کئی لاکھ مہاجرین ترکی سے بلقان کے راستے جرمنی سویڈن اور دوسرے یورپی ممالک پہنچے ہیں۔