چار برطانوی جنگجوؤں پر عالمی پابندیاں عائد

دولت اسلامیہ میں بھرتیوں کا زور توڑنے کے لیے برطانیہ کے چار شہریوں پر عالمی پابندیوں کا اطلاق کر دیا گیا ہے۔
پرطانوی پولیس کہتی ہے کہ کم از کم سات سو کے قریب برطانوی شہری شام اور عراق میں جہادی تنظیموں کی حمایت کی خاطر یا ان کے ہمراہ لڑنے کے لیے جا چکے ہیں۔
<link type="page"><caption> دولتِ اسلامیہ میں بھرتی کیسے روکی جائے؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/08/150828_islamic_state_turkey_zis" platform="highweb"/></link>
تاہم ان میں سے نصف کے قریب واپس آ چکے ہیں۔
پابندیوں کا اعلان ایسے وقت کیا گیا ہے جب وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی رہنماؤں کے ساتھ ہیں۔
بہت سے برطانوی شہری جو شورش زدہ علاقوں میں گۓ ہیں ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انھوں نے نام نہاد گروپ دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی پابندیوں سے متعلق کمیٹی نے یہ پابندیاں برطانوی حکومت کی درخواست پر عائد کی ہیں۔
یہ چاروں غیر ملکی جنگجو ہیں اور ان پر سفری پابندی عائد کی گئی ہے اور ان کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانوی حکومت کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک دہائی میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ برطانوی حکومت نے خود اپنے شہریوں پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے درخواست دی ہو۔ ان کے مطابق اس پابندی کا مقصد کئی دوسرے افراد کو جنگجو گروہوں میں شمولیت سے باز رکھنا ہے۔








