دولتِ اسلامیہ میں بھرتی کیسے روکی جائے؟

یورپی ملکوں سے آنے والی بہت سی خواتین دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونے کے لیے ترکی کا رخ کرتی ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنیورپی ملکوں سے آنے والی بہت سی خواتین دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونے کے لیے ترکی کا رخ کرتی ہیں

دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی جانب سے موصل میں اپنی نام نہاد متنازع خلافت کے اعلان کے 15 ماہ ان کی مزید بھرتیوں کو روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں، جو ان کی افرادی قوت کو ان تک پہنچنے سے روک سکے۔

واشنگٹن اور نیٹو ممالک کے تعاون سے ترکی شام کے ساتھ اپنی 700 میل لمبی سرحد پر ایک ممنوعہ علاقے کے قیام پر غور کر رہا ہے۔

اس اقدام کا بنیادی مقصد مستقبل میں ترکی سے مزید شدت پسندوں کو شمالی شام میں دولت اسلامیہ کے مقبوضہ علاقوں میں جانے سے روکنا ہے۔

امریکی فوج کے ایک ترجمان نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ پچھلے 12 ماہ کے دوران ہونے والی مشترکہ فضائی کارروائی کے نتیجے میں ’دولت اسلامیہ کے تقریباً 10000 جنگجو ہلاک کر دیے گئے ہیں۔‘

اس مستقل تنازعے میں فوج کی اتنی بڑی کامیابی کا دعوٰی کرنے کا یہ ایک غیر معتبر پیمانہ ہے۔

لیکن اگر اس کو سچ بھی مان لیا جائے، مغربی انٹیلی جنس حکام کو یقین ہے کہ دولت اسلامیہ میں اتنی صلاحیت ہے کہ اسے جس تیزی سے ختم کیا جا رہا ہے، وہ اتنی ہی تیزی سے اپنے لیے نئی بھرتیوں کا انتظام کر لیتی ہے۔

دولت اسلامیہ جو ابھی تک عراق اور شام کے اسی حصے پر قابض ہے جس پر وہ ایک سال پہلے تھی، ایسے میں ترکی کی سرحد پر سخت حفاظتی اقدامات ان کی بھرتیوں کو روکنے میں کیا کردار ادا کرے گی؟

ترکی شام سرحد

،تصویر کا ذریعہAP

عام طور پر یورپی جنھیں ترکی کا ویزا درکار نہیں ہوتا، ہوائی جہاز سے استنبول پہنچتے ہیں۔ وہاں پر موجود سہولت کار ان کو بس کے ذریعے شام کی سرحد سے قریب کسی قصبے یا گاؤں میں پہنچا دیتا ہے، جہاں سے وہ مقامی سمگلروں کے ذریعے چھپ کر سرحد پار کرتے ہیں اور پھر دولت اسلامیہ کے علاقے میں داخل ہو جاتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ہر سال ترکی آنے والے 25 لاکھ برطانوی شہریوں میں سے کم از کم ایک ہزار جبکہ دیگر یورپی ممالک سے بھی ہزاروں کی تعداد میں جنگجو پولیس اور انٹیلی جنس کو چکمہ دے کر ترکی کی سرحد عبور کرکے دولت اسلامیہ کے علاقے میں داخل ہو جاتے ہیں۔

تقریباً 900 کلومیٹر طویل ترکی اور شام کی سرحد کا زیادہ تر حصہ شام کی کردش پیپلز پروٹیکشن فورس کے اختیار میں ہے، جو دولت اسلامیہ کی مخالف ہے۔

ترکی کو امید ہے کہ دونوں سرحدوں کے درمیان 60 کلومیٹر کا ممنوعہ علاقہ دولت اسلامیہ کے اختیار میں باقی سرحد کو بند کرنے میں مدد دے گا۔

اس سے یورپی جنگجوؤں کے سیلاب کو ترکی کے ذریعے دولت اسلامیہ میں شامل ہونے سے روکا جا سکے گا جو پہلے ہی 2013 کے مقابلے میں کم ہو چکا ہے، لیکن حقیقتاً اس اقدام کے بعد بھی سرحد پر ایسے کچھ حصے رہ جائیں گے جس سے ان کا اخراج ممکن ہو سکے گا۔

شام عراق سرحد

جون 2014 سے جنگجوؤں نے شام اور عراق کے اہم داخلی حصوں کا اختیار سنبھال لیا ہے۔ انھوں نے تمام فوجی چوکیاں مسمار کر دی ہیں اور اعلان کیا ہے کہ نو آبادیاتی دور کی 600 کلومیٹر کی اس سرحد کا خاتمہ کیا جائے گا۔

اس کے لیے انھوں نے ٹوئٹر پر ’سائکس پیکوٹ نو مور‘ یعنی ’اب سائکس پیکوٹ نہیں چلے گا‘ کے نام سے ایک ہیش ٹیگ بھی بنایا ہے۔

شام عراق سرحد عبور کرتے ہوئے انھیں بار بار مشترکہ فضائی کارروائی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، لیکن پھر بھی دولت اسلامیہ سرحد کے زیادہ تر حصے پر آزادی سے اپنی نقل و حمل جاری رکھتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty

بہرحال اگر کوئی عراق کی سرحد کے ذریعے دولت اسلامیہ میں شامل ہونا چاہتا ہے تواسے پہلے عراق آنا ہو گا اور پھر کُرد یا عراقی حکومت اور جنگی علاقے کو عبور کر کے راستہ بنانا ہو گا۔ اس لیے یہ ایک پرکشش طریقہ کار نہیں ہے۔

اردن عراقی سرحد

ایک زمانے میں اردن اور عراق کی صحرائی سرحد دونوں ممالک کے بھاری ٹریفک کی وجہ سے مصروف رہتی تھی۔

اردن کے علاقے عقبہ سے سامان سے لدی لاریاں عراق کے دارالحکومت بغداد جاتی تھیں۔ لیکن جب سے عراق میں بغاوت شروع ہوئی ہے، یہ ٹریفک معمول سے بھی کم ہو گیا ہے۔

اردن کی فوج اور پولیس عراق سے متصل صوبے انبار کی سرحد پر گشت کرتی رہتی ہیں۔ جب ہم مئی کے مہینے میں وہاں گئے تو ہمیں وہاں کسی قسم کی ٹریفک نظر نہیں آئی۔

دولت اسلامیہ نے سرحد کے قریب فلوجہ اور رمادی کے علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے، عراقی حکومت کی فوج نے اپنی طرف کی سرحد کا اختیار سنبھالا ہوا ہے۔

اردن شام سرحد

اردن نے اپریل 2015 میں شام کے ساتھ اپنی 397 کلومیٹر طویل سرحد پر آخری راستہ یعنی ناصب کی سرحدی چوکی بھی بند کر دی ہے۔

جب 2011 میں پہلی مرتبہ شام کا تنازع شروع ہوا تو اردن نے اپنے سرحدیں ان ہزاروں پناہ گزینوں کے لیے کھول دیں جو جنگ سے فرار حاصل کرنا چاہتے تھے۔

لیکن اس کے بعد سے اردن اپنے محدود مالی وسائل کی وجہ سے پناہ گزینوں کی اس بڑی تعداد کو سنبھالنے میں مشکلات کا شکار ہے۔

شام کی سرحد کے قریب زاتاری مہاجر کیمپ کو اردن کا چوتھا بڑا شہر کہا جانے لگا ہے۔

اردن پہلے ہی اپنے ملک کے اند ر اسلامی انتہا پسندوں کے ساتھ مسائل کا شکار ہے، خاص طور پر مان اور زرقہ میں۔ اس لیے اب اس نے اپنے سرحد کے ذریعے جنگجوؤں کے شام میں داخلے کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے شروع کر دیے ہیں۔

لیبیا شام سرحد

اگر ترکی شام کے ساتھ اپنی سرحد کا زیادہ تر حصہ دولت اسلامیہ کے جہادیوں کے لیے بند کر دیتا ہے تو پھر ان کے لیے لبنان واحد راستہ رہ جاتا ہے۔ لبنان اور شام کی سرحد 403 کلومیٹر طویل ہے جس میں زیادہ تر پہاڑی علاقہ شامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

اس سرحد کو دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے علاوہ ایران حمایت یافتہ شیعہ تنظیم حزب اللہ کے جنگجو بھی اکثر عبور کرتے رہتے ہیں جو وہاں شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کو بچانے کے لیے سنی جنگجوؤں سے نبرد آزما ہیں۔

لبنان کے دور افتادہ شمال مشرقی حصے میں دولت اسلامیہ کو سرحد کے دونوں جانب کچھ مقامی حمایت حاصل ہے جہاں سے وہ اکثر لبنانی فوج پر حملے کرتی رہتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

لیکن پھر بھی لبنان دولت اسلامیہ میں شامل ہونے والوں کے لیے ترکی کے مقابلے میں کم پرکشش داخلہ ہے۔

دولت اسلامیہ پہلے ہی سے اس کھیل میں آگے ہے۔

حالیہ مہینوں میں مشرق وسطیٰ میں دولت اسلامیہ کی قیادت یورپ میں اپنے حامیوں کو شام آنے کے لیے سرحد پر گرفتاری اور قید کا خطرہ مول لینے کے بجائے انھیں اپنے ملکوں میں رہنے اور وہاں حملے کرنے کا مشورے دے رہی ہے۔

اس کا مجموعی اثر یہ ہو گا کہ مشترکہ فضائی کارروائیاں جاری رہنے کی صورت میں دولت اسلامیہ کی مرکزی خلافت کے جنگجوؤں کی تعداد میں کمی ضرور آئے گی، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس کا دائرہ اس حد تک ہو کہ اس کی کاروائیاں واقعی متاثر ہوں۔

لیکن دوسری طرف دولت اسلامیہ یورپ اور اس سے باہر عرب ممالک میں اپنے جنگوؤں کو حملوں کی طرف راغب کرنے کے لیے پہلے سے ہی فعال سوشل میڈیا کو مزید موثر بنانے کا اردہ رکھتی ہے۔