ملازمت کی درخواست پر 14 برس قید

انٹون کریوسوو شمالی ماسکو میں اپنے والدین کی تصویر دیکھ رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنانٹون کریوسوو شمالی ماسکو میں اپنے والدین کی تصویر دیکھ رہے ہیں

روس کی انٹیلیجنس ایجنسی میں کام کرنے والے ایک انجینیئر کو سویڈن کی کمپنی میں ملازمت کی درخواست دینے پر چودہ برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

جینیڈی کریوسوو نے 1990 سے 2005 تک روس کی اہم خفیہ ایجنسی جی آر یو میں سیٹلائٹ انٹیلیجنس کے شعبے میں ریڈیو انجینیئر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دی تھیں۔

ملازمت چھوڑنے کے بعد انھیں پانچ برس تک خاص قسم کی سکیورٹی ملازمتیں کرنے کی اجازت نہیں تھی کیونکہ ان کی ملازمت اور کام کی نوعیت حسساس تھی۔

تاہم جب پابندی کی مدت ختم ہوئی تو انھوں نے سویڈن کی ایک کمپنی میں ملازمت کی درخواست دے دی۔ لیکن چار سال بعد انھیں گرفتار کر لیا گیا۔

استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ کریوسوو نے اپنے سی وی میں خفیہ معلومات افشا کیں اور یہ عمل سنگین غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ تاہم انجینیئر کریوسوو کا کہنا ہے کہ وہ بے گناہ ہیں۔

کریوسوو کی بیگم ایلا نے ’ماسکو ٹائمز‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں پھر بھی امید ہے
،تصویر کا کیپشنکریوسوو کی بیگم ایلا نے ’ماسکو ٹائمز‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں پھر بھی امید ہے

ان کے مقدمے کی سنوائی ایسے وقت ہو رہی ہے جب روس میں جاسوسی اور غداری کے کئی مقدمات سامنے آئے ہیں جن سے اس بات کو تقویت پہنچتی ہے کہ ماسکو میںحکومت اپنے شہریوں کے غیر ملکیوں کے ساتھ روابط کو زیادہ شک اور شبہے کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔

کریوسوو کے وکیل ایوون پیولوو کہتے ہیں کہ بند دروازوں کے پیچھے مقدمے کی سماعت کرنے والے جج نے وکیلِ صفائی کی تمام تحریکوں کو مسترد کر دیا اور مدعا الیہ کے گواہوں کو گواہی دینے کی اجازت نہیں دی۔

کریوسوو کی بیگم ایلا نے ’ماسکو ٹائمز‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں پھر بھی امید ہے۔

’ان سب باتوں کے باوجود مجھے یقین ہے کہ معجزہ ہوگا۔اس پاگل پن کا خاتمہ ہو جائے گا اور یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ میرا شوہر بے گناہ ہے۔‘