روس مغرب کو کس طرح دیکھتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
اگر مغرب کے پالیسی سازوں سے پوچھا جائے کہ وہ یورپ کے لیے سب سے بڑا خطرہ کسے سمجھتے ہیں تو ان کا جواب کیا ہو گا؟
ان کی نظر میں یورپ کی سلامتی کو دو بڑے خطرات درپیش ہیں۔
پہلا خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی جہادی تنظیم سے اور دوسرا روس کے صدر ولادی میر پوتن سے۔
اسلامی شدت پسندوں سے خطرہ تو واضح طور پر سمجھ میں آتا ہے لیکن روس سے کیوں؟
مغربی حکومتیں سمجھتی ہیں کہ کرائمیا پر قبضہ کر کے اور مشرقی یوکرین میں جنگ کو ہوا دے کر صدر پوتن نے یوکرین کی خودمختاری کو نشانہ بنایا ہے۔
پوتن نے ایسا کر کے نہ صرف خود کو ایک ناقابل اعتبار اور خطرناک رہنما ثابت کیا ہے بلکہ وہ یورپ کی سرحدوں کے لیے خطرے کے طور پر بھی ابھر کر سامنے آئے ہیں۔
مغربی حکومتوں کو فکر ہے کہ نہ جانے پوتن کا اگلا قدم کیا ہو۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اب تک کسی قسم کے سخت جملوں کا تبادلہ نہیں ہوا ہے۔

رواں سال بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں ہونے والے معاہدے کے بعد سے یوں محسوس ہوتا ہے گویا یوکرین کا معاملہ تعطل کے بعد ٹھہر سا گیا ہو۔
مشرقی یوکرین کے مستقبل کے بارے میں ہونے والی بات چیت میں پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔ دونوں جانب سے کی جانے والی جنگ بندی کی خلاف ورزیاں انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہی ہیں۔
اگرچہ روس اِس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے لیکن روسی فوج کی جانب سے باغیوں کی مدد کرنے کی نہ صرف اطلاعات موجود ہیں بلکہ اس کے کچھ فوجی پکڑے بھی جا چکے ہیں۔
مغرب کی جانب سے عائد پابندیاں اپنی جگہ اب بھی قائم ہیں۔ روس کو مغرب کے ساتھ تعلقات میں کئی حوالوں سے کشیدگی کا سامنا ہے۔ البتہ دونوں فریقین کے مابین باقاعدہ طور پر اِس وقت کوئی جنگ نہیں ہو رہی۔
مستقبل میں ہم کیا توقع کر سکتے ہیں؟
اِس وقت کسی بھی بات کا تعین کرنا مشکل ہے۔ مغربی منصوبہ سازوں کی پریشانی کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ روس کے ارادوں کو واضح طور پر سمجھ نہیں پا رہے۔
اِس بارے میں سنہ 2009 تک روس کے بین الاقوامی فوجی معاملات کے سب سے سینیئر ماہر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ایوجنی بُزنسکی کا تبصرہ مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔
اُن کے طویل کریئر میں وہ پہلے سوویت یونین اور پھر روسی افواج کی جانب سے سرد جنگ کے زمانے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ماسکو میں اِس وقت تھنک ٹینک پی آئی آر کے سربراہ ہیں اور آج بھی ڈیفنس ملٹری کے جنرل سٹاف اور سابق ساتھیوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔
اِس تمام تر صورت حال کے بارے میں اُن کا تبصرہ ایک طرف پُرتیقن ہے تو دوسری جانب تشویش میں مبتلا کرنے والا بھی ہے۔ انھوں نے روس کی طرف سے بلقانی ریاستوں پر کسی بھی قسم کے ممکنہ حملے کو غیر منطقی ہونے کی بنیاد پر مسترد کر دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہepa
دوسری طرف کوئی بھی بلقانی ریاست اِس تجزیے کو مِن و عن تسلیم کرنے میں تُذبذُب کا شکار ہوگی۔
کسی بڑے روسی جنرل کی طرف سے یہ کہنا کہ نیٹو کی حفاظت میں ہونے والے ملک پر حملہ کرنا احمقانہ عمل ہو گا، اپنی جگہ ایک دلچسپ امر ہے۔ اِس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ نیٹو معاہدے کی شق نمبر پانچ کارگر ہے جو دوسرے ممالک کو نیٹو کی حفاظت میں ہونے والے ممالک کے خلاف حملے کرنے سے باز رکھتی ہے۔ تاہم کچھ نیٹو ممالک کے عوام میں اِس بارے میں ملے جلے جذبات پائے جاتے ہیں۔
جنرل بزنسکی یہ بھی سمجھتے ہیں کہ روس اور مغربی ممالک کے درمیان حال ہی میں کشیدگی میں کمی آئی ہے اور اس کی وجہ مِنسک معاہدہ ہو سکتا ہے۔
انھوں نے روس کی طرف سے امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی کے سلسلے میں رویے میں تبدیلی کو بھی پہچانا ہے۔
جنرل بزنسکی کہتے ہیں: ’اگر آپ ہتھیار مہیا کرتے ہیں تو آپ کو اس کے لیے تربیت کار بھیجنے پڑیں گے۔ یہ ناقابل یقین سی بات لگتی ہے کہ وہ اِس وقت مغربی یوکرین میں کہیں تربیت دے رہے ہوں اور اُن کے تربیت یافتہ مشرقی یوکرین میں اسلحہ اٹھائے ہوئے ہوں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
’تربیت دینے والے فرنٹ لائن پر ہونے چاہییں۔ اور ایسی صورت میں وہ زخمی ہو سکتے ہیں، جان سے جا سکتے ہیں یا اغوا ہو کر مخالفین کی قید میں جا سکتے ہیں۔ اِس کا مطلب ہوگا کہ امریکہ کی جانب سے براہ راست مداخلت کی گئی ہے۔
’اور میری سمجھ کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اوباما مہلک ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘
دوسری جانب وہ یہ انتباہ بھی جاری کرتے ہیں کہ اگر یوکرین جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتا ہے اور اپنی فوجیں دوسری جانب مشرقی یوکرین بھیجتا ہے تو یہ روس کے لیے ناقابل قبول ہو گا۔
انھوں نے کہا ’ اگر کیئف یہ کہہ کر آگے بڑھتا ہے اُن پر بمباری کی جا رہی ہے، تو روس یقینی طور پر مداخلت کرے گا اور اس کے نتیجے میں جنگ ہوگی۔‘
یہ ٹھیک ہے بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ روس ڈنباس کے علاقے میں خفیہ جنگ کی صورت میں پہلے ہی مداخلت کر رہا ہے۔
لیکن جنرل بزنسکی یہاں بڑے حملے کے تناظر میں بات کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ پیغام وہ مغربی حکام سے ہونے والی گفتگو میں ضرور شامل کرتے ہیں کہ یوکرین کو قائل کیا جائے کہ وہ برداشت کا مظاہرہ کرے۔
اُدھر یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر تنازعے میں کوئی سنگینی آئی تو وہ روس کی طرف سے ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty
ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ گذشتہ برس روس کے صدر پوتن سمیت کئی دفاعی اور سلامتی کے ماہرین نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ امریکہ اپنی برتری قائم رکھنے کے لیے روس کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔
اُن کے مطابق یہی وجہ ہے کہ روس کو اپنے قوانین میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ تاکہ وہ این جی اوز کو ’مغربی ایجنٹ‘ اور کسی بھی ادارے کو اُن کی مرضی کے خلاف جانے پر’ناپسندیدہ‘ قرار دے سکیں۔
جنرل بزنسکی مغربی ممالک کو اپنے ملک کا فطری دشمن نہیں سمجھتے۔ وہ کھلے عام مغربی ایجنٹ کے قانون کو ’بیوقوفی‘ کہتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ صحیح ہے کہ روس گذشتہ دو برس سے خود کو مغرب کی طرف سے خطرے کا شکار محسوس کرتا ہے، لیکن پھر بھی وہ نہیں سمجھتے کہ روس اور امریکہ ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔
وہ کہتے ہیں: ’یہ میرا یقین ہے کہ اگرچہ ہمارا ملک یورپ کے کچھ علاقوں اور ایشیا کے کچھ علاقوں پر محیط ہے، لیکن ہمارے مطابق روس ایک یورپی ملک ہے۔ ہم امریکہ اور یورپ سے، چین، انڈیا اور کوریا کے مقابلے میں کہیں قریب ہیں۔‘
’میں نہیں سمجھتا کہ روس کی عوام نے سرد جنگ کے زمانے میں بھی کبھی امریکہ کو اپنا دشمن تصور کیا ہو۔‘
آنے والا وقت بتائے گا کہ کیا آیا روس اور مغرب کبھی اتحادی بھی بن سکتے ہیں یا پھر اکیلے رہنا ہی روس کے اپنے مفاد میں ہے۔







