پوپ فرانسس چار روزہ دورے پر کیوبا پہنچ گئے

،تصویر کا ذریعہAP
پوپ فرانسس نے کیوبا کے اپنے پہلے دورے پر کہا ہے کہ کیوبا میں کلیسا کو اپنی ذمہ داری نبھانے کے لیے ’ آزادی اور ذرائع حاصل کرنے ضرورت ہے۔‘
انھوں نے امریکہ اور کیوبا کے درمیان بہتر ہوتے ہوئے تعلقات کی بھی تعریف کی اور کہا ’مصالحتی عمل کے لیے یہ پوری دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔‘
کیوبا کے دارالحکومت ہوانا پہنچنے پر ملک کے صدر راؤل کاسترو نے ان کا استقبال کیا۔ ان کی قیام گاہ کے راستے پر ہزاروں لوگ ان کے خیر مقدم کے لیے قطار میں کھڑے ہوئے تھے۔
وہ کیوبا میں چار روز ہ دورہ پر ہیں جس کے بعد وہ امریکہ روانہ ہو جائیں گے۔ پوپ فرانسس ایسے پہلے پوپ ہیں جن کا تعلق لاطینی امریکہ سے ہے اور امریکہ اور کیوبا کے درمیان برسوں سے خراب تعلقات کو استوار کرنے اور سفارتی تعلقات بحال کرنے کا سہرا انھیں کو دیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر کیوبا کے صدر نے اس کے لیے ان کی کاوشوں کو بھی سراہا۔
ہوانا کے ایئر پورٹ پر صدر راؤل کاسترو کے ہمراہ پوپ فرانسس نے کیوبا کے کیتھولک عیسائیوں کے مزید حمایت پر زور دیتے ہوئے کہا ’تاکہ کلیسا آزادی کے ساتھ کیوبا کے لوگوں کی امیدوں اور ان کی تشویشات پر ان کی حمایت اور حوصلہ بڑھانے کا کام جاری رکھ سکے۔‘

،تصویر کا ذریعہGETTY
انھوں نے کیوبا اور امریکہ سے آپسی کشیدگی کو کم کرنے والے اس ’راستے کو محفوظ کرنے‘ پر بھی زور دیا۔
اس سے قبل جمعرات کو ویٹیکن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسے امید ہے کہ پوپ کے دورہ سے کیوبا پر 53 برس سے عائد امریکی پابندیوں کا خاتمہ ہوجائے گا اور کیوبا میں آزادی اور حقوق انسانی کی صورت حال بہتر ہوجائےگی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پینزنر ڈیئاگو کیرین نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا تھا کہ پوپ نے امریکہ اور کیوبا کے درمیان رشتے استوار کرنے میں جو کردار ادا کیا ہے اس سے ’جیسے کیوبا پر امید کی تر و تازہ لہر چل پڑی ہو۔‘
اس سے پہلے جمعے کو امریکہ نے کیوبا کے تعلق سے عائد سفری اور تجارتی پابندیوں میں آسانیاں کرنے کا اعلان کیا تھا، جو امریکی صدر براک اوباما کی طرف سے تعلقات بحال کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات ہیں۔
پوپ کے دورہ کے موقع پر ہوانا شہر کی بہت سی گلیوں اور پیدل چلنے والے راستوں کی جہاں صفائی کی گئی وہیں کئی گرجا گھروں کو بھی از سر نو مرتب کیا گيا ہے۔ جس گرجا گھر میں پوپ پیر کو دعائیہ تقریب کریں گے اس کی مرمت کی گئی ہے اور دوبارہ پینٹ کیا گیا ہے۔
اس کےبعد پوپ فرانسس امریکہ جائیں کے اور پوپ کی حیثیت سے یہ ان کا پہلا امریکی دورہ ہوگا۔
سنہ 1998 میں پوپ جان پال دوئم ایسے پہلے پوپ تھے جنھوں نے کیوبا کا دورہ کیا تھا اور تب انھوں نے کہا تھا ’کاش کیوبا خود کو دنیا کے لیے کھولے اور دنیا بھی خود کو کیوبا کے لیے کھولے۔‘
ان کے جانشین پوپ بینیڈکٹ نے بھی سنہ 2012 میں کیوبا کا دوہ کیا تھا۔







