امریکہ اور کیوبا کے سفارتی تعلقات 50 برس بعد دوبارہ بحال

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ اور کیوبا کے درمیان سفارتی تعلقات 50 برس سے زائد عرصے کے بعد باضابطہ طور پر دوبارہ بحال ہو گئے ہیں۔
جولائی میں امریکی صدر براک اوبامانے ایک دوسرے کے دارالحکومت میں اپنے سفارت خانے کھولنے کا اعلان کیا تھا۔
اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو دونوں ممالک میں واقع ایک دوسرے سفارتی مشن سفارت خانوں میں تبدیل ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان 1961 سے ختم ہونے والے سفارتی تعلقات دوبارہ بحال ہو گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
امریکی وزیر خارجہ جان کیری پیر کو واشنگٹن میں کیوبا کے وزیر خارجہ سے ملاقات بھی کر رہے ہیں۔
دونوں ممالک کے اس تاریخی اقدام کے باوجود تعلقات میں مزید بہتری کی راہ میں ابھی رکاؤٹیں حائل ہیں۔
امریکی دفتر خارجہ کے مطابق اب بھی ایسے مسائل موجود ہیں جن پر اتفاق رائے نہیں پایا جاتا ہے۔
صدر براک اوباما نے گذشتہ سال دسمبر میں دونوں ممالک میں تعلقات بہتر بنانے کا تاریخی اعلان کیا تھا لیکن کیوبا پر امریکی تجارتی پابندیاں ابھی بھی برقرار ہیں انھیں صرف کانگریس کی جانب سے ہی ہٹایا جا سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان پابندیوں میں زیادہ تر امریکی کمپنیوں کو کیوبا میں سرمایہ کاری کرنے کی اجازت نہیں ہے تاہم رواں سال مئی میں امریکہ نے کیوبا کا نام دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکال دیا
رواں سال مئی میں امریکہ نے کیوبا کا نام دہشت گردی کی سرپرستی کر نے والی ریاستوں کی فہرست سے نکال دیا تھا اور دونوں ممالک کے درمیان فیری سروس چلانے کی اجازت دے دی تھی۔
امریکہ نے کیوبا میں 1961 کے انقلاب کے بعد کیمونسٹ رہنما فیدل کاسترو کے اقتدار میں آنے کے بعد سفارتی تعلقات توڑ لیے تھے اور اس پر تجارتی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔








