کیوبا اب دہشتگردوں کی سرپرستی نہیں کرتا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
امریکہ نے کیوبا کا نام دہشت گردی کی سرپرستی کر نے والی ریاستوں کی فہرست سے نکال دیا ہے۔
امریکہ کے اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنے کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ دور ہوگئی ہے۔
اس فہرست سے نام نکلنے کے بعد اب کیوبا امریکہ میں بینکاری کر سکے گا۔
واضع رہے کہ صدر براک اوباما نے گزشتہ سال دسمبر میں دونوں ممالک میں تعلقات بہتر بنانے کا تاریخی اعلان کیا تھا لیکن کیوبا پر امریکی تجارتی پابندیاں ابھی بھی برقرار ہیں انھیں صرف کانگرس کی جانب سے ہی ہٹایا جاسکتا ہے۔
کیوبا اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات بحال کرنے کے سلسلے میں دونوں ممالک کے لیڈران کے مابین ہونی والی ملاقاتوں میں کیوبا کا جانب سے کیے جانے والے مطالبوں میں دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نام نکالنا ایک اہم مطالبہ تھا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکہ اور کیوبا کے سفارتکاروں کے مابین ہونے والے حالیہ مذاکرات سردمہری کا شکار ہو رہے تھے اور گزشتہ ہفتے دونوں کے مابین ایک دوسرے کے ممالک میں سفارتخانے کھولنے کا معاہدہ بھی نہیں ہوسکا تھا۔
امریکہ میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کے مطابق اس فیصلے سے کیوبا کو بین الاقوامی مالیاتی نظام تک رسائی میں مدد ملے گی۔
امریکی محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں میں کہا گیا ہے کہ ’ امریکہ کو کیوبا کی بہت سی پالیسیوں کے بارے میں خدشات ہیں لیکن وہ خدشات دہشت گردی کی سرپرستی کے حوالے سے نہیں ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ صدر اباما نے کیوبا کی جانب امریکی پالیسی کی تبدیلی کے اعلان کے بعد اس فہرست میں کیوبا کی موجودگی کے حوالے سے نظرثانی کے احکامات جاری کیے تھے۔
محکمہ داخلہ کے مطابق صدر اوباما نے کیوبا کا نام اس فہرست سے نکالنے کے اپنے ارادے کے بارے میں کانگرس کو اس برس 14 اپریل کو اگاہ کر دیا تھا اور قانون کے مطابق اگر کانگس کو اس حوالے سے کوئی اعتراضات تھے تو اسے 45 دن کے اندر ان کا اظہار کرنا تھا۔
45 دن کا عرصہ جعمے کو پورا ہوگیا تھا اور اس حوالے سے کانگرس کی جانب سے کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا اس لیے اب کیوبا کا نام حتمی طور پر اس فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے۔
واضع رہے کہ کہ کیوبا کا نام سنہ 1982 سے اس فہرست میں شامل تھا اور ماضی میں امریکی حکومت کی جانب سے کیوبا پر ہسپانوئی علیحدگی پسند گروپ ایٹا اور کولمبیا کے بائیں بازوں کے گوریلا گروپ فارک کی مدد کا الالزام لگتا رہا ہے۔







