ڈاکٹرعمران فاروق کے قاتلوں کو پکڑنے کے لیے پرعزم ہیں:میٹرو پولیٹن پولیس

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, اطہر کاظمی
- عہدہ, بی بی سی اردو، لندن
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی پانچویں برسی پر لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے قتل کی تحقیقات دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات کرنے والے افسران کر رہے ہیں اور پولیس ان کے قاتلوں کو پکڑنے کے لیے پر عزم ہے۔
واضع رہے کہ سنہ 2010 میں ڈاکٹر عمران فاروق کو لندن کے علاقے ایجوئیر میں چھریوں کے وار کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔
پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی منصوبہ بندی میں قاتلوں کے علاوہ دیگر افراد بھی شامل تھے اور ہو سکتا ہے کہ ان میں سے کچھ نے انجانے میں مدد یا اطلاعات فراہم کی ہوں۔
لندن پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے حوالے سے اب تک چار ہزار سے زیادہ افراد سے تحقیقات کی جا چکی ہیں۔
’ہمارے افسران مسلسل پاکستانی حکام سے رابطے میں ہیں تاکہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ضروری ثبوت اکھٹے کیے جاسکیں۔‘
میٹروپولیٹن پولیس کو ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے الزام میں دو پاکستانی شہری محسن علی سید اور محمد کاشف خان کامران مطلوب ہیں۔
پولیس کے مطابق قتل کے وقت یہ دونوں افراد لندن میں موجود تھے۔
میٹروپولیٹن پولیس کی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے بیان میں لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر کسی کے پاس قتل کے حوالے سے کوئی ثبوت یا اطلات ہیں تو میٹرو پولیٹن پولیس سے فوراً رابطہ کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ ہمیں اندازہ ہے کہ لوگ اپنی حفاظت کے پیشِ نظر پولیس سے بات نہ کرنا چاہیں لیکن ہم ان کو یقین دلاتے ہیں کہ اطلاع دینے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔‘
یاد رہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے سلسلے میں اب تک تین افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے لیکن ان سب کو بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔







