آرکنساس میں سزائے موت پر عملدرآمد دوبارہ شروع

،تصویر کا ذریعہAP
امریکی ریاست آرکنساس دس سال کے بعد سزائے موت پر پابندی ختم کر رہی ہے جو قانونی وجوہات اور ادویات کی کمی کے باعث لگائی گئی تھی۔
آرکنساس کے گورنر آسا ہچیسن نے بدھ کو آٹھ قیدیوں کی پھانسی کی تاریخ کی منظوری دی۔
21 اکتوبر کو دو قیدیوں کو سزائے موت دینے کے لیے تین دواؤں کے ایک مجموعے کا استعمال کیاجائے گا جس میں متنازع دوا میڈازولم بھی شامل ہے۔
امریکہ میں سزائے موت پر عملدرآمد میں تاخیر کی وجہ حالیہ برسوں میں سزا کے لیے دی جانے والی ادویات بنانے والی کمپنیوں کا دواؤں کی فراہمی سے انکار تھا۔
سنہ 1976 میں امریکہ کی سپریم کورٹ کی جانب سے سزائے موت کی دوبارہ منظوری کے بعد سے اب تک آرکنساس میں 27 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔
پھانسی کی سزا پر عملدرآمد کی تاریخیں گذشتہ ہفتے اٹارنی جنرل کی درخواست کے بعد طے کی گئیں۔
انھوں نے آرکنساس کے گورنر کو خط لکھا جس میں انھیں بتایا کہ سزائے موت کے منتظر ان قیدیوں کی اپیل کا وقت ختم ہوگیا ہے اور یہ کہ ریاست کے حکام نے سزا کے لیے درکار ضروری ادویات کی وافر مقدار بھی حاصل کر لی ہے۔
ریاست آرکنساس کو ابھی تک ایک مقدمے کا سامنا ہے جس میں اس نئے قانون کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت ریاست سزائے موت کے لیے حاصل کی جانے والی ادویات کے ذرائع بتانے کی پابند ہے تاہم امریکہ کی سپریم کورٹ اور دیگر وفاقی عدالتوں نے دوسری ریاستوں میں ان چیلنجز کو مسترد کر دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وکیل جیف روزنویگ سزائے موت کے آٹھ قیدیوں اور ایک دوسرے ملزم کے مقدمے کی پیروی کر رہے ہیں جن کا مقدمہ ابھی بھی عدالتوں میں زیرِ غور ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے پھانسی کی سزا پر عملدرآمد کے فیصلے کو موخر کرنے کے لیے درخواست دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
آرکنساس کے شعبۂ اصلاح نے یکم جولائی کو کہا تھا کہ اس کے پاس موت کی سزا پر عملدرآمد کروانے کے لیے وافر مقدارمیں جان لیوا ادویات موجود ہیں۔
ان ذخائر میں میڈازولم کی بھی وافر مقدار شامل ہے جو پچھلے سال ایریزونا، اوہائیو اور اوکلاہوما میں خاطر خواہ نتائج برآمد نہ ہونے کی وجہ سے تنقید کا شکار رہی ہے۔
امریکہ کی سپریم کورٹ نے جون میں اوکلاہوما میں سزائے موت کے منتظر تین قیدیوں کے اعتراضات کو مسترد کر کے اس دوا کے استعمال کی اجازت دے دی۔







