پانچ برس میں پہلی عورت کو سزائے موت

ٹیریسا لویس
،تصویر کا کیپشنامریکہ میں عام طور پر خواتین کو سزائےموت نہیں دی جاتی

امریکی ریاست ورجینیا میں ایک عورت کو اپنے شوہر اور سوتیلے بیٹے کے قتل کی سازش کے جرم میں سزائے موت دے دی گئی ہے۔

اکتالیس سالہ ٹیریسا لوئیس ورجینیا میں سنہ انیس سو بارہ کے بعد اور امریکہ میں گزشتہ پانچ سال میں سزائے موت پانے والی پہلی عورت ہیں۔

لوئیس نے دو مردوں کے ساتھ مل کر اپنے خاوند اور سوتیلے بیٹے کے قتل کا منصوبہ بنایا، قاتلوں کے لیے اسلحہ خریدا اور ان کے لیےگھر کے دروازے کھلے چھوڑ دیے تھے۔

ان کے شریکِ جرم مردوں میتھیو شیلنبرگر اور راڈنی فلر کو عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔

ٹیریسا کے وکلاء اور سزائے موت کی مخالفت کرنے والے افراد ان کے کم ’آئی کیو‘ کو بنیاد بنا کر کہا تھا کہ ٹیریسا اس طرح کا منصوبہ بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ تاہم امریکی سپریم کورٹ اور ورجینیا کے گورنر نے ٹیریسا کی سزائے موت پر عملدرآمد روکنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد انہیں مقامی وقت کے مطابق رات نو بجے سزائے موت دے دی گئی۔

ٹیریسا کے وکلاء شیلنبرگر پر الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے قتل کا منصوبہ بنایا اور ٹیریسا کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جس کے ساتھ ان کےتعلقات تھے۔ شیلنبرگر نے حراست کے دوران خودکشی کر لی تھی۔

امریکہ میں یکم جنوری انیس سو تہتر سے تیس جون دو ہزار آٹھ کے درمیان آٹھ ہزار ایک سو اٹھارہ لوگوں کو سزائے موت سنائی گئی تھی جن میں صرف ایک سو پینسٹھ خواتین تھیں۔ اسی عرصے میں ایک ہزار ایک سو اڑسٹھ لوگوں کو سزائے موت دی گئی جن میں صرف گیارہ خواتین تھیں۔