’شدت پسندوں کے ہاتھوں مشرق وسطیٰ کے ٹکڑے ہونے سے بچانا ضروری ہے‘

،تصویر کا ذریعہPA
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سے کہا ہے کہ اسلامی شدت پسندوں کے ہاتھوں مشرق وسطیٰ کے ٹکڑے ہونے سے بچاؤ کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔
انھوں نے یہ بات لندن میں برطانوی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں کہی۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شام اور ایران کے مسائل کے بارے میں بات کی جائے گی۔
یاد رہے کہ اسرائیل عالمی طاقتوں کا ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کی سخت مخالفت کرتا ہے۔
دوسری جانب ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ برطانیہ ’اسرائیل کا اپنا دفاع کرنے‘ کا بھرپور حمایتی ہے۔
فلسطینی نواز سرگرم کارکنوں نے نتین یاہو کے دورے کی مذمت کی ہے۔
بدھ کو ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر مظاہرین نے احتجاج میں مطالبہ کیا کہ نتین یاہو کو جنگی جرائم کا مرتکب ہونے پر گرفتار کیا جائے۔ ان مظاہرین اور اسرائیل حمایتی مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم کی گرفتاری کے لیے چلائی گئی پٹیشن پر اتنے دستخط ہو گئے ہیں کہ اس پر پارلیمنٹ میں بحث کے لیے غور کیا جا سکتا ہے لیکن اس ہفتے اس کوشش کو مسترد کردیا گیا کیونکہ حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’غیر ملکی رہنماؤں کو دوروں پر گرفتار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ انھیں قانونی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
ڈاؤننگ سٹریٹ پر آمد پر نتین یاہو نے کہا ’مشرق وسطیٰ کے اسلامی شدت پسندی کے باعث ٹکڑے ہو رہے ہیں۔ ایک طرف سنی اسلامی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ ہے اور دوسری جانب ایران کی قیادت میں شیعہ شدت پسندی۔‘
انھوں نے مزید کہا ’مجھے یقین ہے کہ افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے عسکریت پسند اسلام کی اس لہر کے اثر کو کم کرنے میں ہم مل کر کام کر سکتے ہیں۔‘
نتین یاہو نے یہ بھی کہا کہ وہ ’غیر مشروط طور پر فلسطینیوں کے ساتھ فوری براہ راست مذاکرات کرنے کو تیار ہیں‘۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات اپریل سنہ 2014 میں ختم ہو گئے تھے۔
ڈیوڈ کیمرون نے ’برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان قریبی تعلقات‘ اور ’بڑھتے ہوئے اقتصادی اور تجارتی تعلقات‘ کو سراہا۔







