بغداد ایک بار پھر دھماکوں کا نشانہ، کم از کم 20 ہلاک

عراقی دارالحکومت میں حالیہ چند ماہ میں بم دھماکوں میں درجنوں افراد مارے جا چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنعراقی دارالحکومت میں حالیہ چند ماہ میں بم دھماکوں میں درجنوں افراد مارے جا چکے ہیں

عراق کا دارالحکومت بغداد سنیچر کو ایک مرتبہ بھر بم دھماکوں کا نشانہ بنا ہے جن میں کم از کم 20 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

سب سے زیادہ ہلاکتیں شہر کے شیعہ اکثریتی علاقے صدر سٹی میں ہونے والے کار بم دھماکے میں ہوئی ہیں۔

یہ کار بم گاڑیاں فروخت کرنے والی دکان حبیبیہ کار ڈیلر شپ پر پھٹا۔ اس دکان کو ماضی میں بھی بم حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

طبی حکام کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں 13 افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے جنھیں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

بغداد کے شمال مشرق میں واقع صدر سٹی وہی علاقہ ہے جہاں دو روز قبل ایک ٹرک بم دھماکے میں 50 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

اُس حملے کی ذمہ داری شدت پسند گروپ دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی تاہم سنیچر کو ہونے والے دھماکوں کی ذمہ داری ابھی کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

عراقی پولیس کے مطابق صدر سٹی کے علاوہ شہر کے العسکان ڈسٹرکٹ اور شمال مشرقی بغداد میں جسر کے علاقے میں دو بازاروں میں ہونے والے دھماکوں میں چار افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوئے ہیں۔

شدت پسندوں نے سنیچر کو بغداد کے جنوب میں واقع شہر مدین اور شمال میں تاجی نامی قصبے میں بھی دھماکے کیے جن میں پانچ افراد مارے گئے۔

عراق کے وزیرِ اعظم حیدر العبادی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد گذشتہ چند ماہ کے دوران بغداد شدت پسندوں کے حملوں کا بڑا ہدف رہا ہے۔

عراقی دارالحکومت میں حالیہ چند ماہ میں بم دھماکوں میں درجنوں افراد مارے جا چکے ہیں۔ شہر میں مئی اور جولائی میں دو بڑے ہوٹلوں کے باہر کار بم دھماکے ہوئے تھے۔.