بغداد میں کار بم دھماکہ، 120 افراد ہلاک

پولیس کے مطابق یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب مسلمان کے اپنے مقدس مہینے رمضان کے ختم ہونے کے بعد عید منا رہے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپولیس کے مطابق یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب مسلمان کے اپنے مقدس مہینے رمضان کے ختم ہونے کے بعد عید منا رہے تھے

عراق میں حکام کے مطابق ملک کے مصروف بازار میں ہونے والے کار بم دھماکے میں کم از کم 120 افراد ہلاک اور 130 زخمی ہو ئے ہیں۔

عراق کے مشرقی صوبے دیالا کے قصبے خان بنی سعد سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مرنے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔

یہ حملہ عراق کے دارالحکومت بغداد کے شمال میں واقع شیعہ اکثریتی علاقےخان بنی سعد نامی قصبے میں ہوا۔

عراقی پولیس کے مطابق یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگ مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان کے ختم ہونے کے بعد عید منا رہے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ شدید دھماکے کی وجہ سے عمارتیں تباہ ہو گئیں۔

دوسری جانب شدت پسند تنظیم ’دولتِ اسلامیہ‘ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

’دولتِ اسلامیہ‘ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے ایک رکن نے کار میں موجود تین ٹن وزنی بم ہجوم میں لے جا کر دھماکہ کر دیا

مرنے والوں میں بچے بھی شامل ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمرنے والوں میں بچے بھی شامل ہیں

عراق پولیس کے میجر احمد الاتمیمی کا کہنا ہے کہ دھماکے سے ’ہولناک‘ نقصان ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ چند افراد سبزی کے ڈبوں میں اپنے بچوں کی لاشوں کے ٹکڑوں کو اکھٹا کر رہے تھے۔

عینی شایدین کا کہنا ہے کہ جائے حادثہ کے ملبے سے لاشوں کو نکالنے کا کام جاری ہے۔

حکام نے دیالا صوبے میں تین دن کے سوگ کا اعلان کرتے ہوئے عید کی دوسری تقربیات پر پابندی عائد کر دی ہے۔

شدت پسند تنظیم ’دولتِ اسلامیہ‘ نے عراق کے ایک بڑے حصے پر قبضے کر رکھا ہے اور ملک کے شمالی اور مغربی علاقوں میں حکومتی فورسز کے درمیان جنگ جاری ہے۔