’عراق میں دو دن میں 17 خودکش حملے ناکام بنائے گئے‘

،تصویر کا ذریعہReuters

عراقی سکیورٹی فورسز نے کہا ہے کہ گذشتہ دو دنوں کے دوران انھوں نے خودکش حملوں کی 17 کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔

حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ ان 17 میں سے بارود سے بھری کاروں پر سوار پانچ خودکش حملہ آوروں کو بغداد کے شمال میں بیجی آئل ریفائنری کے قریب ہلاک کیا گیا۔

اس کے علاوہ عراقی فوج نے 12 ایسے ہی خودکش حملہ آوروں کو بیجی کے جنوبی علاقے میں گولی مار کر ہلاک کیا۔

عراقی پولیس نے ان اطلاعات کی تصدیق سے بھی انکار کر دیا ہے کہ برطانیہ سے تعلق رکھنے والا ایک 17 سالہ نوجوان بھی ان حملہ آوروں میں شامل تھا۔

اس برطانوی نوجوان کے خودکش حملہ آور ہونے کی اطلاعات سوشل میڈیا پر دولتِ اسلامیہ کے بارے میں آنے والی خبروں میں سامنے آئی تھیں۔

برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق وہ ان چار خود کش بمباروں میں شامل تھا جنھوں نے بیجی کے جنوب میں واقع تیل کی ریفائنری کے قریب سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا۔

 اب تک برطانیہ سے کم از کم 700 افراد جہادی تنظیموں خصوصاً دولتِ اسلامیہ کا ساتھ دینے کے لیے مشرقِ وسطیٰ جا چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن اب تک برطانیہ سے کم از کم 700 افراد جہادی تنظیموں خصوصاً دولتِ اسلامیہ کا ساتھ دینے کے لیے مشرقِ وسطیٰ جا چکے ہیں

برطانوی علاقے مغربی یارکشائر کی پولیس کا کہنا ہے کہ ’پولیس ایک برطانوی شہری کی عراق میں ہلاکت کے حوالے سے آنے والی خبروں کے بارے میں آگاہ ہے۔‘

پولیس کے مطابق ’جس شخص کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں، اس کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی ہے اور ہم اس بارے میں مزید تبصرہ نہیں کر سکتے۔‘

اگر اس نوجوان کے خودکش حملے کی کوشش کے دوران مارے جانے کی خبر کی تصدیق ہوتی ہے تو وہ برطانیہ کا سب سے کم عمر خود کش بمبار ہوگا۔

اس سے قبل مغربی یارکشائر کے حسیب حسین نے تقریباً 19 برس کی عمر میں سات جولائی سنہ 2005 کو لندن کی ایک بس پر خودکش حملہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ ایک اندازے کے مطابق اب تک برطانیہ سے کم از کم 700 افراد جہادی تنظیموں خصوصاً دولتِ اسلامیہ کا ساتھ دینے کے لیے مشرقِ وسطیٰ جا چکے ہیں۔