بیجی آئل ریفائنری کی لڑائی کتنی اہم ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, جِل ایس رسل
- عہدہ, کنگز کالج، لندن
عراق کے تیل صاف کرنے والے سب سے بڑے کارخانے بیجی پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے دولت اسلامیہ کے خلاف عراقی فوجوں اور شیعہ ملیشیا کی لڑائی ایک انتہائی اہم مرحلہ ہے۔
گذشتہ چند ماہ میں اس پر کئی گروہ قابض رہے تاہم دولتِ اسلامیہ نے ایک بار پھر عراقی فوجوں اور اس کے اتحادیوں کو بے دخل کرنے کی دھمکی دی ہے۔
گذشتہ ماہ امریکی فوج کے سینیئر ترین آفیسر جنرل مارٹن ڈپمسی نے بیجی شہر اور آئل ریفائنری کو دولت اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کرانے پر زور دیا تھا۔ ان کے خیال میں ایسا کرنے سے دولت اسلامیہ سرمایے کے حصول کا اہم ذریعہ کھو دے گی۔
بیجی پر قبضہ حاصل ہونے سے موصل میں دولت اسلامیہ کو نشانہ بنانے کی راہ بھی ہموار ہوگی۔
بہرحال اس جگہ کی سٹریٹیجک اہمیت دراصل کئی طرح کی ہے۔
عراق میں تصادم کے حالیہ بیانیے کے مطابق بیجی کے فاتح لوٹ مار کرتے ہیں تاہم اس کو فتح کرنے کی مشترکہ کوششوں سے حاصل ہونے والے فوائد سے اس نتیجے پر بھی سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس وقت 26 مربع کلومیٹر پر پھیلی ریفائنری کے اندر تقریباً 200 عراقی اہلکار محصور ہیں، جو شاید دوتہائی حصے پر دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے قبضے میں ہے۔
دونوں صورتوں میں ریفائنری کا کنڑول اپنے ہاتھ میں رکھنے کی قیمت چکانا ہوگی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
بیجی پر اپنا قبضہ قائم رہنے کے لیے جانی و مالی دونوں طرح کی طاقت کی فراہمی کی ضرورت ہے، عراقیوں کے لیے اس سے بھی بری صورتحال یہ ہے کہ لڑائی کی صورت میں اس کا نتیجہ دولت اسلامیہ کے حق میں ہوسکتا ہے۔
یہ امر بھی اہم ہے کہ دولت اسلامیہ کو عراقیوں کو فتح سے دور رکھنے اور لڑائی جیتنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسی لڑائی میں مقاصد مخالف کو شکست دینے کے بجائے منتشر کرنے کی حکمت عملی اپنائی جاتی ہے جس کے لیے انھیں بڑی تعداد میں جنگجو یا جنگی حکمت عملیوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔
عراقی فوج کے ایک سینیئر اہلکار کے کہنا ہے کہ ریفائنری کی جنگ میں دولت اسلامیہ کے تقریبا 230 جنگجو شامل ہیں۔ انھوں نے ذخیرے کے ٹینکس اور ریفائنری کے کچھ حصوں کو آگ لگا دی ہے جس سے فضائی بمباری میں مزید مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔
اس کے علاوہ حکومتی فوجیں ریفائنری پر دوبارہ قبضہ کیسے حاصل کرسکتی ہیں، اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جا رہا ہے کہ اس لڑائی کے کسی معنی خیر نتیجے سے بھی بچا جائے۔ واضح رہے کہ اس ریفائنری کی تباہی گذشتہ موسم سرما میں بند کیے جانے کے وقت تک اس کی پیداوار ایک لاکھ 75 ہزار بیرل تیل یومیہ تھی۔
اسی وجہ سے فوج کے جنگی طریقہ کار محدود ہیں، جس میں دولت اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے امریکی فضائی بمباری بھی شامل ہیں۔
دوسری صورت میں اس کی انتہائی اہمیت کے باوجود ایسا بھی ممکن ہے کہ دولت اسلامیہ شکست سے پہلے اسے تباہ کر دیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
جغرافیائی لحاظ سے بیجی عراق کے مشرقی علاقے میں واقع ہے جس کی جانب دولت اسلامیہ پیش قدمی کر رہے ہیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس گروہ نے ضرورت سے زیادہ حاصل کر لیا ہے اور اب اسے اپنا بوجھ سنبھالنے میں مشکل کا سامنا ہے۔
اپریل میں تکریت ہاتھوں سے نکل جانے کے بعد اور مغربی صوبہ انبر میں مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ریفائنری ایک الگ تھلک محاذ ظاہر ہوتا ہے۔
مزید برآں، بیجی کی موصل سے مماثلت مبالغہ آرائی ہوسکتی ہے۔ اگرچہ یہ موصل کے راستے میں ہے تاہم دولت اسلامیہ کے عراق میں ’دارالحکومت‘ کے دفاع میں اس کی اہمیت زیادہ نہیں ہے۔
ایسا بھی ممکن ہے کہ عراقی فوجیں بیجی کو نظرانداز کرتے ہوئے براہ راست موصل کی جانب پیش قدمی کردیں۔
اگرچہ تیل سے حاصل ہونے والی آمدن عراق کے لیے مفید ہے تاہم حالیہ فوجی مہمات کے اخراجات ضرورت سے زیادہ ہیں۔
دوسری جانب بیجی دولت اسلامیہ کے لیے بوجھ بھی بن سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
دولت اسلامیہ کو افرادی قوت، ذرائع اور لاجسٹکس میں کمزوریوں کا سامنا ہے۔ ان کی آمدنی کمزور ہے۔ اپنی عسکری مہمات کے لیے ان کا باغیانہ انفراسٹرکچر ہے۔ اور سب سے اہم یہ کہ ان کی فوج محدود ہے اور انھیں افرادی قوت کی کمی سامنا ہے۔
اگر دولت اسلامیہ ریفائنری کا مکمل قبضہ حاصل کر لیتی ہے تو اس اپنے قبضے میں رکھنے کی ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
بہرحال، فوجی علاقوں کی دیکھ بھال کرنا آسان ہے نہ کم خرچ۔ دولت اسلامیہ کو بغیر کسی سٹریٹیجک فائدے کے اس کی موجودہ جگہ تک محدود رکھنا اس کے لیے مہنگا ہوسکتا ہے۔
بیجی بظاہر عراق اور اس کے اتحادیوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ دکھائی دے سکتا ہے، لیکن دراصل یہ کامیابی کی علامت بھی بن سکتا ہے۔







