چین: تیانجن دھماکوں کی آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
چین کے شمالی شہر تیانجن میں ہونے والے دو دھماکوں کے بعد لگنے والی آگ پر 36 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔
چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق فوج کی کیمیکل ٹیم کے ماہرین جائے وقوعہ پر زہریلی گیس کے ٹیسٹ کر رہے ہیں اور امدادی کارکنوں سے کہا گیا ہے کہ وہ حفاظتی لباس پہن لیں۔
واضح رہے کہ بدھ کی شام تیانجن کے ایک گودام میں ہونے والے دھماکوں سے کم سے کم 50 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔
دھماکوں سے اردگرد کی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور پورٹ پر موجود ہزاروں گاڑیاں اور کنٹینر تباہ ہو گئے۔
ابھی تک دھماکوں کا سبب معلوم نہیں ہو سکا اور نہ ہی یہ پتہ چلا ہے کہ کیا گودام میں موجود کیمیکل کا اخراج دھماکوں کی وجہ بنا۔
چین کی سرکاری نیوز ایجنسی شن ہوا کے مطابق تلاشی کا کام کرنے والی ٹیموں نے جمعے کو ملبے سے ایک زندہ شخص کو باہر نکالا ہے۔ زندہ بچ جانے والے 19 سالہ فائر فائیٹر کا نام زو ٹی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
حکام کے مطابق اس واقعہ میں 17 فائر فائیٹرز بھی ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ چین کی منٹسری آف پبلک سکیورٹی کا کہنا ہے کہ ابھی بھی 18 فائر فائیٹرز لاپتہ ہیں۔
تیانجن کےفائر چیف زو تیان نے جمعے کو میڈیا کو بتایا کہ جائے وقوعہ پر 1,020 فائر فائیٹرز اور 140 آگ بجھانے والی گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بندرگاہ پر دھماکے رواہی لوجیسٹکیس نامی کمپنی کے گودام میں ہوئے جو اطلاعات کے مطابق سوڈیم سائنائیڈ جیسے زہریلے کیمیکل کی نقل و حمل کا کام کرتی ہے۔
تاہم شہر کے حکام نے جمعے کو بتایا کہ انھیں ابھی تک گودام میں موجود مواد کے بارے میں علم نہیں ہے اور نہ ہی دھماکوں کا سبب معلوم نہیں ہو سکا ہے۔
تیانجن کی ورک سیفٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے صحافیوں کو بتایا کمپنی کے مینیجروں اور کسٹمز حکام کے اکاؤنٹوں میں بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کے دفتر کو ہونے والے نقصان نے وہاں موجود کیمیکلز کی شناخت کو مشکل بنا دیا ہے۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ کو سِیل کر دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
تیانجن میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جان سوڈورتھ کا کہنا ہے کہ آگ بجھنے کی صورت میں کیمیکل کنٹینزز کا تجزیہ کرنے کے لیے اور انھیں دھوپ سے بچانے کے لیے محفوظ مقامات پر پہنچایا جائے گا۔
نامہ نگار کے مطابق تیانجن کے شہری اس صورتِ حال پر پریشیان ہیں اور انھیں شبہ ہے کہ انھیں اس بارے میں سچائی نہیں بتائی جا رہی ہے۔
چین کی کیمونیسٹ پارٹی کے سرکاری روزنامے دی پیپلز ڈیلی کا کہنا ہے کہ امدادی کارکن گودام میں موجود 700 ٹن سوڈیم سئینائیڈ کا ذخیرہ ختم کر رہی ہے اور اس کام کے لیے ہائیڈروجن پر آکسائیڈ اسعتمال کر کے کیمیکل کو ناکارہ بنایا جا رہا ہے۔
جائے وقوعہ کے قریب ایک فیکٹری کے سکیورٹی گارڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے بھڑکتی ہوئی آگ دیکھی۔ ’اچانک میں نے زوردار آواز سنی۔ میں فوری زمین پر لیٹ گیا لیکن پھر بھی میں زخمی ہو گیا۔‘
زخمی ہونے والے ایک اور شخص نے بتایا کہ دھماکہ کے وقت اُن کا دماغ بالکل سُن ہو گیا تھا۔ ’میرا سب سے پہلا ردعمل یہ تھا کہ میں بھاگا۔ میں نے ایک اور دھماکہ سنا۔ میں بھاگ رہا تھا اور میرا پورہ جسم خون سے لت پت تھا۔
سرکاری خبر رساں ادارے شن ہوا کے مطابق چین کے صدر شی جن پنگ نے مثاثرہ افراد کو بچانے کے لیے ’تمام کوششیں‘ کرنے پر زور دیتے ہوئے وعدہ کیا ہے کہ اس واقعے کی جامع تحقیقات کی جائیں گی اور ان کو شفاف طریقے سے عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
چین کے دارالحکومت بیجنگ کے جنوب مشرق میں تیانجن شہر کا شمار اہم صنعتی اور تجارتی بندرگاہوں میں ہوتا ہے اور شہر میں 75 لاکھ افراد مقیم ہیں۔







