چین: تیانجن دھماکوں کی آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا

بدھ کی شام گودام میں ہونے والے دھماکوں میں کم سے کم 50 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہو گئے تھے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنبدھ کی شام گودام میں ہونے والے دھماکوں میں کم سے کم 50 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہو گئے تھے

چین کے شمالی شہر تیانجن میں ہونے والے دو دھماکوں کے بعد لگنے والی آگ پر 36 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق فوج کی کیمیکل ٹیم کے ماہرین جائے وقوعہ پر زہریلی گیس کے ٹیسٹ کر رہے ہیں اور امدادی کارکنوں سے کہا گیا ہے کہ وہ حفاظتی لباس پہن لیں۔

واضح رہے کہ بدھ کی شام تیانجن کے ایک گودام میں ہونے والے دھماکوں سے کم سے کم 50 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

دھماکوں سے اردگرد کی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور پورٹ پر موجود ہزاروں گاڑیاں اور کنٹینر تباہ ہو گئے۔

ابھی تک دھماکوں کا سبب معلوم نہیں ہو سکا اور نہ ہی یہ پتہ چلا ہے کہ کیا گودام میں موجود کیمیکل کا اخراج دھماکوں کی وجہ بنا۔

چین کی سرکاری نیوز ایجنسی شن ہوا کے مطابق تلاشی کا کام کرنے والی ٹیموں نے جمعے کو ملبے سے ایک زندہ شخص کو باہر نکالا ہے۔ زندہ بچ جانے والے 19 سالہ فائر فائیٹر کا نام زو ٹی ہے۔

تیانجن کےفائر چیف زو تیان نے جمعے کو میڈیا کو بتایا کہ جائے وقوعہ پر 1,020 فائر فائیٹرز اور 140 آگ بجھانے والی گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنتیانجن کےفائر چیف زو تیان نے جمعے کو میڈیا کو بتایا کہ جائے وقوعہ پر 1,020 فائر فائیٹرز اور 140 آگ بجھانے والی گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف ہیں

حکام کے مطابق اس واقعہ میں 17 فائر فائیٹرز بھی ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ چین کی منٹسری آف پبلک سکیورٹی کا کہنا ہے کہ ابھی بھی 18 فائر فائیٹرز لاپتہ ہیں۔

تیانجن کےفائر چیف زو تیان نے جمعے کو میڈیا کو بتایا کہ جائے وقوعہ پر 1,020 فائر فائیٹرز اور 140 آگ بجھانے والی گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔

بندرگاہ پر دھماکے رواہی لوجیسٹکیس نامی کمپنی کے گودام میں ہوئے جو اطلاعات کے مطابق سوڈیم سائنائیڈ جیسے زہریلے کیمیکل کی نقل و حمل کا کام کرتی ہے۔

تاہم شہر کے حکام نے جمعے کو بتایا کہ انھیں ابھی تک گودام میں موجود مواد کے بارے میں علم نہیں ہے اور نہ ہی دھماکوں کا سبب معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

تیانجن کی ورک سیفٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے صحافیوں کو بتایا کمپنی کے مینیجروں اور کسٹمز حکام کے اکاؤنٹوں میں بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کے دفتر کو ہونے والے نقصان نے وہاں موجود کیمیکلز کی شناخت کو مشکل بنا دیا ہے۔

تاہم حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ کو سِیل کر دیا گیا ہے۔

چین کے دارالحکومت بیجنگ کے جنوب مشرق میں تیانجن شہر کا شمار اہم صنعتی اور تجارتی بندرگاہوں میں ہوتا ہے اور شہر میں 75 لاکھ افراد مقیم ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنچین کے دارالحکومت بیجنگ کے جنوب مشرق میں تیانجن شہر کا شمار اہم صنعتی اور تجارتی بندرگاہوں میں ہوتا ہے اور شہر میں 75 لاکھ افراد مقیم ہیں

تیانجن میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جان سوڈورتھ کا کہنا ہے کہ آگ بجھنے کی صورت میں کیمیکل کنٹینزز کا تجزیہ کرنے کے لیے اور انھیں دھوپ سے بچانے کے لیے محفوظ مقامات پر پہنچایا جائے گا۔

نامہ نگار کے مطابق تیانجن کے شہری اس صورتِ حال پر پریشیان ہیں اور انھیں شبہ ہے کہ انھیں اس بارے میں سچائی نہیں بتائی جا رہی ہے۔

چین کی کیمونیسٹ پارٹی کے سرکاری روزنامے دی پیپلز ڈیلی کا کہنا ہے کہ امدادی کارکن گودام میں موجود 700 ٹن سوڈیم سئینائیڈ کا ذخیرہ ختم کر رہی ہے اور اس کام کے لیے ہائیڈروجن پر آکسائیڈ اسعتمال کر کے کیمیکل کو ناکارہ بنایا جا رہا ہے۔

جائے وقوعہ کے قریب ایک فیکٹری کے سکیورٹی گارڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے بھڑکتی ہوئی آگ دیکھی۔ ’اچانک میں نے زوردار آواز سنی۔ میں فوری زمین پر لیٹ گیا لیکن پھر بھی میں زخمی ہو گیا۔‘

زخمی ہونے والے ایک اور شخص نے بتایا کہ دھماکہ کے وقت اُن کا دماغ بالکل سُن ہو گیا تھا۔ ’میرا سب سے پہلا ردعمل یہ تھا کہ میں بھاگا۔ میں نے ایک اور دھماکہ سنا۔ میں بھاگ رہا تھا اور میرا پورہ جسم خون سے لت پت تھا۔

سرکاری خبر رساں ادارے شن ہوا کے مطابق چین کے صدر شی جن پنگ نے مثاثرہ افراد کو بچانے کے لیے ’تمام کوششیں‘ کرنے پر زور دیتے ہوئے وعدہ کیا ہے کہ اس واقعے کی جامع تحقیقات کی جائیں گی اور ان کو شفاف طریقے سے عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

چین کے دارالحکومت بیجنگ کے جنوب مشرق میں تیانجن شہر کا شمار اہم صنعتی اور تجارتی بندرگاہوں میں ہوتا ہے اور شہر میں 75 لاکھ افراد مقیم ہیں۔