ناگاساکی میں ایٹم بم کی تباہ کاریاں

،تصویر کا ذریعہGetty
نو اگست سنہ 1945 کو دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ نے جاپان کے صنعتی شہر ناگاساکی پر دوسرا ایٹم بم گرایا تھا۔
اس ایٹمی حملے کے چھ روز بعد جاپان نے ہتھیار پھینک دیے تھے۔
ناگاساکی پر گرائے جانے والے ایٹم بم کے نتیجے میں کم از کم 74 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس سے قبل گذشتہ تین روز میں ہیروشیما پر دنیا کے پہلے ایٹمی حملے میں کم از کم ایک لاکھ 40 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
نو اگست سنہ 1945 کو ناگاساکی پر گرانے جانے والے ایٹم بم کو امریکہ کی جانب سے ’فیٹ مین‘ کا نام دیا گیا تھا۔ یہ بوکسکار نامی طیارے سے گرایا گیا جس نے ماریانا جزائر سے پرواز کی اور اس کے پائلٹ کا نام میجر جنرل چارلس سوینے تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
ہیروشما کی تباہی کے بعد امریکی صدر ہیری ایس ٹرومین کا کہنا تھا کہ اگر جاپان ہتھیار پھینکنے کے حوالے سے شرائط تسلیم نہیں کرتا تو ’وہ ہوا سے تباہی کی بارش کی توقع رکھے، ایسی جیسی دنیا میں پہلے کبھی نہ دیکھی گئی ہوگی۔‘
ناگاساکی ابتدائی طور پر ایٹم بم سے نشانہ بنانے کے اہداف میں شامل نہیں تھا، اسے حملے سے محض دو ہفتے شامل کیا تھا۔
اس روز امریکی جانب سے کاکورا شہر کا نشانہ بنایا جانا تھا تاہم خراب موسمی حالات کی وجہ سے بوکسکار کا رخ ناگاساکی کی جانب موڑ دیا گیا۔
مقامی وقت کے مطابق پلوٹونیم سے لیس یہ بم ناگاساکی کی فضا میں 11 بج کر 2 سیکنڈ پر پھٹا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکہ ایٹم بم کے استعمال کو دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کی توجیح کے طور پر پیش کرتا ہے، اس کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ہونے والی فوجی اور شہری ہلاکتوں کو روکنے کے لیے اس کا استعمال کیا گیا تھا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ جاپان پہلے ہی ہتھیار پھیکنے کے لیے تیار تھا اور امریکہ کی جانب سے ایٹم بم محض اپنی فوجی برتری کے اظہار کے لیے گرائے گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
اس ایٹم بم نے ناگاساکی شہر کا تقریبا 30 فیصد حصہ تباہ کر دیا اور صنعتی علاقہ بالکل زمین بوس ہوگیا تھا۔
زندہ بچ جانے والے بیشتر افراد ہولناک زخموں کا شکار ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
اس وقت ایشیا کے سب سے بڑے رومن کیتھولک گرجا گھروں میں سے ایک گرجا گھر اراکامی کیتھیڈرل کو بھی نقصان پہنچا جسے سنہ 1959 میں دوبارہ تعمیر کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
دھماکے بعد زندہ بچ جانے والے چند افراد نے ملبے کے ڈھیر پر خیموں میں قیام کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
اس کے دس سال بعد شہر کی تیزی کی ازسرنو تعمیر کی گئی، جس میں شہر کے وسط میں ایک امن کا یادگاری پارک بھی تعمیر کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
سنہ 1955 میں پارک کے مرکز میں ایک امن کا مجسمہ نصب کیا گیا۔ جاپان کی قومی سیاحتی ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق مجسمے کا آسمان کی طرف بلند ایک ہاتھ ’جوہری ہتھیاروں کے خطرے کی نشاندہی کر رہا ہے‘ جبکہ اس کو پھیلا ہوا دوسرا ہاتھ امن کی علامت ہے۔
ہر سال اسی مقام پر یادگاری تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty







