’انگریزی نہیں بول سکتے تو ملازمت بھی نہیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
برطانیہ میں حکومت نے کہا ہے کہ وہ افراد جو روانی سے انگریزی زبان نہیں بول سکتے انھیں ایسی ملازمتیں کرنے سے روک دیا جائے گا جہاں براہِ راست عوام سے پیش آنا پڑتا ہے۔
اس سال ستمبر سے نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) اور مقامی حکومتوں میں صرف ایسے افراد ہی نوکری کر سکیں گے جن کو انگریزی زبان بولنی آتی ہو گی۔
مینیجروں سے کہا جائے گا کہ وہ دیکھیں کہ ملازمین ’موثر انداز میں لوگوں سے بات چیت کر سکتے ہیں یا نہیں۔‘
کابینہ کے وزیر میٹ ہینکاک کہنا تھا کہ اس سے امیگریشن کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔
نئے قواعد کے تحت جو سرکاری امیگریشن پالیسی کا حصہ ہوں گے، سرکاری محکمے کا ہر وہ کارکن جسے اپنی ملازمت میں ’عوام سے بات کرنا ہوگی‘، اس کے لیے سکول کی سطح کی انگریزی زبان بولنا ضروری ہوگا۔
اس میں پولیس کے افسران، سماجی شعبے سے تعلق رکھنے والے کارکن، تدریس کے پیشے سے وابستہ عملہ اور ان کے معاونین اور کونسل کے ملازمین شامل ہوں گے۔
برطانیہ میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کے لیے پہلے سے ہی اچھی انگریزی زبان بولنا ضروری ہے اور جنرل میڈیکل کونسل ان کا امتحان لیتی ہے۔
صحت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد کے روانی سے انگریزی نہ بول سکنے کا معاملہ اس وقت بہت نمایاں ہوا تھا جب 2008 میں جرمنی کے ایک ڈاکٹر سے غلطی ہوئی تھی جنھوں نے ایک مریض کو خطرناک مقدار کا درد کُش ٹیکہ لگا دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس وقت یورپی شہری کی حیثیت سے ڈاکٹر انگریزی زبان کا امتحان پاس کیے بغیر برطانیہ میں کام کر سکتے تھے۔ لیکن گذشتہ سال جون میں قاعدے اور قوانین تبدیل کر دیے گئے۔
مسٹر ہینکاک کے مطابق ’ہم تمام محنتی افراد کے فائدے کے لیے امیگریشن کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ ہم نے پہلے ہی یہاں آ کر کام کرنے والوں کے لیے زبان سے متعلق سخت شرائط متعارف کرا دی ہیں۔ اب ہم امیگریشن بل میں نئے قوانین لائیں گے تاکہ وزیرِ اعظم نے آگے بڑھنے کے لیے جو وعدے کیے ہیں وہ پورے ہو سکیں۔‘







